اتوار، 15-فروری،2026
اتوار 1447/08/27هـ (15-02-2026م)

پاکستان کے خلائی پروگرام میں غیر معمولی تیزی، اہم کامیابیاں حاصل

15 فروری, 2026 09:36

بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلائی عزائم میں ایک اہم پالیسی اصلاح اور اسٹریٹجک تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے تحت پاکستان کا خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی ادارہ سپارکو اب اپنی فعالیت کو ملک کے بنیادی اور وجودی چیلنجز، بالخصوص موسمیاتی لچک، درست زرعی منصوبہ بندی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں تک پاکستان کے خلائی پروگرام کو کھوئے ہوئے مواقع اور سست پیش رفت کی کہانی سمجھا جاتا رہا، جبکہ اسی دوران ہمسایہ ملک بھارت چاند پر مشنز اور وسیع سیٹلائٹ بیڑوں کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں ہوتا رہا اور سپارکو ایک طویل خاموش دور کا شکار دکھائی دیتا تھا، تاہم گزشتہ دو برسوں میں سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی نے اس تاثر کو بدلنا شروع کر دیا ہے اور حالیہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سپارکو معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور قومی سلامتی سے جڑے قومی و علاقائی چیلنجز کے تناظر میں کھوئے ہوئے وقت اور صلاحیت کی تلافی کی جانب گامزن ہے۔

اس بحالی کی سب سے نمایاں علامت 7 فروری 2026 کو سامنے آئی جب اعلان کیا گیا کہ دو پاکستانی امیدواروں کو چین کے آسٹروناٹ سینٹر میں اعلیٰ تربیت کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا ہے، جو فروری 2025 میں دستخط کیے گئے دو طرفہ خلانورد تعاون معاہدے کا تسلسل ہے، اور توقع ہے کہ 2026 کے اختتام تک ان میں سے ایک فرد چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے مشن میں شامل ہو کر مدار میں جانے والا پہلا پاکستانی خلا باز بنے گا، جہاں وہ طب، ماحولیات اور دیگر سائنسی شعبوں میں مائیکرو گریوٹی تجربات انجام دے گا، جو محض قومی فخر کا لمحہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سائنسی پیش رفت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق انسانی خلائی پرواز کی نمایاں حیثیت کے علاوہ سپارکو کی حقیقی واپسی اس کی تکنیکی کامیابیوں میں پوشیدہ ہے، جہاں صرف 2025 کے دوران پاکستان نے تین ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کامیابی سے لانچ کیے جو ادارے کی تاریخ میں سرگرمیوں کی غیر معمولی رفتار کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ اکتوبر 2025 میں لانچ کیا گیا ایچ ایس-1 یعنی پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ سیٹلائٹ ان پیش رفتوں کا سب سے اہم جزو قرار دیا جا رہا ہے۔

بظاہر یہ ایک عام ارضی مشاہداتی سیٹلائٹ دکھائی دیتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک بڑی تکنیکی جست ہے کیونکہ روایتی سیٹلائٹس صرف نظر آنے والی روشنی کے طیف میں تصاویر لیتے ہیں جبکہ ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ روشنی کے طیف کو سینکڑوں باریک حصوں میں تقسیم کر کے زمین کی کیمیائی ساخت، فصلوں کی بیماری کی ابتدائی علامات، معدنی ذخائر کی درست نشاندہی اور آبی آلودگی کے بہاؤ کی نگرانی جیسے اہم تجزیاتی امکانات فراہم کرتی ہے، اور یہ کثیر طیفی تصاویر ایسی تفصیلات اور انحرافات کو بھی ظاہر کرتی ہیں جو عام کیمروں سے ممکن نہیں ہوتے۔

رپورٹ میں اس درستگی کو وسائل کے مقابلے اور سماجی و معاشی بقا کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غذائی تحفظ، گلیشیئر پگھلنے اور ریکارڈ توڑ موسلا دھار بارشوں جیسے موسمیاتی خطرات سے دوچار ملک میں ایچ ایس-1 جیسے سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا سیلاب کے اثرات کم کرنے اور زرعی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد تک اضافے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

موجودہ جغرافیائی سیاسی ماحول میں خلا کو اب محض مشترکہ ورثہ نہیں بلکہ طاقت کے اظہار اور صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے ایک کلیدی میدان سمجھا جا رہا ہے، اور پاکستان کے لیے خلائی شعبہ اب ثانوی نہیں بلکہ قومی دفاع کا بنیادی جزو بنتا جا رہا ہے، جس کا اظہار 2019 اور 2025 کے پاک بھارت فوجی تناؤ کے دوران حقیقی وقت میں نگرانی کی صلاحیت کی اہمیت سے بھی ہوا، جبکہ آزاد تجزیات کے مطابق سیٹلائٹ سے حاصل شدہ معلومات کو زمینی ڈیٹا لنکس جیسے لنک-17 نظام کے ساتھ یکجا کر کے پاکستان نے کثیر جہتی ماحول میں مؤثر آپریشنل منصوبہ بندی ممکن بنائی۔

اگرچہ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ ابتدائی طور پر سیٹلائٹ کنسٹیلیشن اور خلائی صورتحال سے آگاہی میں برتری حاصل کر چکا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان اس صلاحیتی فرق کو بتدریج کم کر رہا ہے اور بعض بھارتی فوجی حکام کی جانب سے بھی اس امر کا اعتراف کیا گیا کہ مئی 2025 کے دوران پاکستان بھارتی عسکری اثاثوں کی نقل و حرکت کی حقیقی وقت میں نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

اس احیا کی بنیاد بڑی حد تک ایشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن کے فریم ورک اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری پر رکھی گئی ہے، جو اسپیس وژن 2040 کے تحت مقامی علمی و تکنیکی بنیاد کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اور مہنگی و محدود غیر ملکی کمرشل امیجری پر تاریخی انحصار کو کم کر کے اسٹریٹجک خود مختاری کو فروغ دینے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

ماضی میں سپارکو کی تاریخ دہائیوں پر محیط جمود، بدلتی قومی ترجیحات اور مالی محدودیتوں سے عبارت رہی جس دوران علاقائی ممالک خلائی میدان میں عالمی شراکت دار بن گئے اور پاکستان کو مدار کی اہم سلاٹس کے نقصان جیسے دھچکوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، تاہم موجودہ ادارہ جاتی رفتار اس پالیسی سمت کی واضح درستی کی نشاندہی کرتی ہے۔

جدید سیٹلائٹ بیڑے، جس میں پاک سیٹ ایم ایم ون برائے تیز رفتار ڈیجیٹل رابطہ اور پی آر ایس ایس-1 برائے ہائی ریزولوشن آپٹیکل مانیٹرنگ شامل ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلائی ٹیکنالوجی کو اب ریاستی بنیادی ڈھانچے کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے جو ٹرانسپورٹ اور توانائی کے نیٹ ورکس جتنا ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری کی حقیقی وقت میں نگرانی اور جغرافیائی خطرات کے تجزیے کے لیے یہ اثاثے کلیدی ڈیجیٹل نگرانی فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 1990 کی دہائی کے تجرباتی بدر سیریز سے آج کے جدید ہائپر اسپیکٹرل اور کمیونیکیشن سیٹلائٹس تک کا سفر تکنیکی خود مختاری کی جانب پیش رفت کی علامت ہے اور 2026 کے اواخر میں پہلے انسانی خلائی مشن کی تیاری اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان خلائی دوڑ کا محض تماشائی نہیں بلکہ ایک فعال اور مقصد پر مبنی شریک بن چکا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔