ایران سے مذاکرات پہلی ترجیح ہے، صدر ٹرمپ خامنہ ای سے ملنے کو تیار ہیں : مارکو روبیو

امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاملات کو جنگ یا دباؤ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کی پہلی ترجیح ایران کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدے تک پہنچنا ہے، اگرچہ یہ کام آسان نہیں ہوگا۔
بلوم برگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ صدر پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک مشکل عمل ہے، لیکن صدر اس کی کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس وقت امریکی حکومت اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔
روبیو نے کہا کہ دنیا میں قوموں کے درمیان رابطہ اور بات چیت ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ ایسے صدر کے ماتحت کام کر رہے ہیں جو کسی سے بھی ملاقات کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، اگر اس سے مسائل کے حل کی امید ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کل یہ کہہ دیں کہ وہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو صدر اس کے لیے بھی تیار ہوں گے۔ روبیو کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ صدر ٹرمپ آیت اللہ سے اتفاق کرتے ہیں، بلکہ وہ اس یقین کے تحت ملاقات کریں گے کہ عالمی مسائل بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوتے ہیں۔
ایران کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیا تو یہ نہ صرف امریکا بلکہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ کے خطے اور عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہوگا۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی فوجی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے ماضی میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امریکی مفادات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے امریکا خطے میں اپنی فوجی طاقت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
روبیو نے بتایا کہ امریکا کے خطے میں فوجی اڈے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے یا دھمکانے کی کوشش کر چکا ہے، اس لیے امریکا کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے میں اتنی طاقت رکھے کہ ایران کوئی غلط قدم نہ اٹھائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کافی فوجی طاقت کی موجودگی اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ایران کسی غلط اندازے کا شکار نہ ہو اور کسی ایسے اقدام کی طرف نہ بڑھے جو بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہو۔ ان کے مطابق امریکا کا مقصد کشیدگی بڑھانا نہیں بلکہ اسے روکنا ہے، تاہم اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










