بی ایل اے کی جاری کردہ فوجیوں کی ویڈیو اے آئی سے تیارکردہ ہے : سیکورٹی ذرائع

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ ویڈیو، جس میں 12 فوجیوں کو اپنی تحویل میں لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، دراصل مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق اس سے قبل بھی بی ایل اے نے جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے دوران 200 سے زائد فوجیوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر آج تک نہ ان افراد کی کوئی تصویر سامنے آئی اور نہ ہی کوئی مستند ویڈیو جاری کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی تنظیم نے دھمکی دی تھی کہ مذاکرات نہ ہوئے تو قیدیوں کو قتل کر دیا جائے گا، لیکن بعد ازاں اس دعوے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن نے نہ صرف بی ایل اے بلکہ عالمی مبصرین کو بھی حیران کیا تھا۔ اس کارروائی میں تنظیم کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد توجہ ہٹانے اور داخلی حوصلہ بحال رکھنے کے لیے بڑے دعوے کیے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں 200 فوجیوں کی گرفتاری کا بیانیہ سامنے لایا گیا تھا۔
ذرائع نے حالیہ دہشت گرد کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 216 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ غیر سرکاری اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی اور بی ایل اے کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس آپریشن کے بعد تنظیم کا خوف اور اثر و رسوخ کمزور ہوا، جس کے باعث اب وہ ڈیجیٹل پروپیگنڈا کا سہارا لے رہی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے حالیہ ویڈیو کے تکنیکی پہلوؤں پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ ویڈیو میں دکھائے گئے افراد کی وردیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جبکہ بلوچستان میں تعینات فورسز، خصوصاً ایف سی کی وردی کا مخصوص رنگ اور پیٹرن ہوتا ہے جو عام شہری بھی پہچان سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ ویڈیو میں بعض چہرے حیران کن حد تک ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں، جو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی ایک عام نشانی سمجھی جاتی ہے جہاں الگورتھمز چہروں میں قدرتی تنوع پیدا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ذرائع نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر یہ واقعی کسی قافلے پر حملے کا نتیجہ ہے تو گرفتاری کے دوران کسی بھی جوان کو معمولی خراش تک کیوں نہیں آئی؟ ان کے مطابق بی ایل اے ماضی میں چھوٹے واقعات کی ویڈیوز بھی فوری جاری کرتی رہی ہے، تو پھر اتنے بڑے دعوے کے باوجود مکمل کارروائی کی مستند ویڈیو کیوں سامنے نہیں آئی؟
ایک اور نکتہ جس کی نشاندہی کی گئی وہ یہ ہے کہ ویڈیو میں ایک شخص خود کو چھٹی پر کراچی جاتے ہوئے ظاہر کرتا ہے، جبکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی فوجی چھٹی پر جاتے ہوئے مکمل جنگی وردی، ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہن کر سول بس میں سفر کرتا ہے؟ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ دعویٰ عقل سلیم سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ہیروف ٹو میں بھاری جانی نقصان کے بعد بی ایل اے بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اپنی گرتی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے جعلی تصاویر اور ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے ایسی ویڈیوز بنانا ممکن ہے، مگر حقیقی افراد کو اس طرح پیش کرنا ممکن نہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے عوام سے اپیل کی ہے کہ دشمن کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور غیر مصدقہ مواد کو بغیر تحقیق آگے نہ پھیلائیں۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل دور میں فیک ویڈیوز اور تصاویر ایک نیا ہتھیار بن چکی ہیں، جس کا مقصد عوامی ذہنوں کو متاثر کرنا اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










