اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دے دیا

اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو اس صورت میں ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دے دی ہے جب فلسطینی زمین کی ملکیت ثابت نہ کر سکیں۔ اس فیصلے کے بعد خطے میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور فلسطینی قیادت سمیت متعدد ممالک نے اسے عملی طور پر الحاق (ڈی فیکٹو اینیکسشن) قرار دیا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کین کے مطابق یہ تجویز انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ، وزیر انصاف یاریو لیون اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ اسموٹریچ نے اسے آبادکاری کے انقلاب کا تسلسل قرار دیا جبکہ لیون نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ تمام علاقوں پر اپنی گرفت مضبوط کرے گی۔
یہ فیصلہ 1967 میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے منجمد زمین کے مالکانہ حقوق کے اندراج کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس عمل کے تحت جب کسی مخصوص علاقے میں زمین کی رجسٹریشن شروع کی جائے گی تو دعویٰ رکھنے والے افراد کو اپنی ملکیت کے کاغذات پیش کرنا ہوں گے۔
فلسطینی صدارتی دفتر نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم دراصل عملی الحاق کے مترادف ہے اور عالمی برادری، خصوصاً امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔
فلسطینی تنظیم حماس نے بھی اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں کو یہودیانے کی کوشش قرار دیا۔ تنظیم نے کہا کہ یہ ایک ناجائز قابض قوت کا کالعدم فیصلہ ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ فیصلہ خاص طور پر ایریا سی پر لاگو ہوگا، جو 1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد مکمل طور پر اسرائیلی فوجی کنٹرول میں آیا تھا۔ اندازوں کے مطابق ایریا سی میں تین لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں جبکہ اطراف کی کمیونٹیز بھی زرعی اور چراگاہی زمینوں کے لیے اسی علاقے پر انحصار کرتی ہیں۔
زیادہ تر فلسطینی زمینیں طویل اور پیچیدہ قانونی تقاضوں کے باعث باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہو سکیں، جن میں دہائیوں پرانے دستاویزات کی شرط بھی شامل ہے، جو جنگ یا قبضے کے دوران ضائع ہو چکے ہیں۔ اس نئے عمل کے تحت اسرائیل اب ان زمینوں کی ملکیت کو چیلنج کر سکتا ہے جہاں پہلے فلسطینیوں کو رسائی سے بھی محروم رکھا گیا تھا۔
اسرائیلی اینٹی سیٹلمنٹ گروپ پیس ناؤ نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام ممکنہ طور پر فلسطینیوں کی زمینوں پر میگا قبضہ ثابت ہوگا۔ تنظیم کی سیٹلمنٹ واچ پروگرام کی سربراہ ہاگت عوفران نے کہا کہ فلسطینیوں کو ایسے طریقے سے ملکیت ثابت کرنے کو کہا جائے گا جو عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا، اور اس طرح اسرائیل ایریا سی کے تقریباً 83 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے، جو مغربی کنارے کے لگ بھگ نصف کے برابر ہے۔ ان کے مطابق رجسٹریشن کا عمل اسی سال شروع ہو سکتا ہے۔
ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی بھی قابض طاقت مقبوضہ علاقے میں زمین ضبط نہیں کر سکتی اور نہ ہی وہاں آبادکاری کر سکتی ہے۔ 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف نے ایک غیر پابند مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور مغربی کنارے میں آبادکاریاں غیر قانونی ہیں اور انہیں جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔
علاقائی سطح پر بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ اردن، قطر، مصر اور ترکی کی وزارت خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا۔ ترکی نے کہا کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختار حق نہیں اور یہ قدم دو ریاستی حل کی امیدوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
امریکا کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، اگرچہ ماضی کی امریکی حکومتیں مغربی کنارے میں اسرائیلی سرگرمیوں میں توسیع کی مذمت کرتی رہی ہیں۔ موجودہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان قریبی تعلقات کے تناظر میں یہ معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ دونوں رہنما گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ملاقات بھی کر چکے ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے باضابطہ الحاق کو مسترد کیا ہے، تاہم ان کی انتظامیہ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی رفتار کو روکنے کے لیے کوئی واضح اقدام نہیں اٹھایا۔ اس وقت مغربی کنارے میں سات لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار غیر قانونی بستیوں میں مقیم ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











