ڈونلڈ ٹرمپ کا حماس سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی تنظیم حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مکمل طور پر اپنا اسلحہ چھوڑ دے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کونسل آف پیس یا امن کونسل غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل ہے اور یہ عالمی امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
ٹرمپ کے مطابق گزشتہ اکتوبر انہوں نے غزہ میں جاری تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا تھا جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے فوراً بعد ریکارڈ رفتار سے انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اور تمام اسرائیلی یرغمالیوں، خواہ زندہ ہوں یا مردہ، کی رہائی ممکن بنائی گئی۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں بائیس ممتاز بانی ارکان نے امن کونسل کے باضابطہ قیام کا جشن منایا اور غزہ کے شہریوں کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا، جس کا مقصد بالآخر عالمی امن کا قیام ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ انیس فروری دو ہزار چھبیس کو وہ واشنگٹن میں ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ فار پیس میں کونسل کے اراکین کے ساتھ دوبارہ ملاقات کریں گے، جہاں یہ اعلان کیا جائے گا کہ رکن ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے پانچ ارب امریکی ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار مختص کرنے کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ یہ نہایت اہم ہے کہ حماس مکمل اور فوری طور پر اسلحہ چھوڑنے کے اپنے عہد پر قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ امن کونسل تاریخ کا اہم ترین بین الاقوامی ادارہ ثابت ہوگی اور وہ اس کے صدر کے طور پر خدمات انجام دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ امن کونسل کے حوالے سے اس کا موقف تبدیل نہیں ہوا۔ یورپی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے ترجمان انور العنونی نے عربی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین کو انیس فروری کے اجلاس کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے، تاہم یورپی یونین کے تحفظات بدستور برقرار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن کونسل کے چارٹر میں اس کے دائرہ کار، طرز حکمرانی اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے مطابقت کے حوالے سے کئی سوالات موجود ہیں۔
یورپی یونین نے عندیہ دیا کہ وہ غزہ کے لیے جامع امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون کو تیار ہے، بشرطیکہ یہ کونسل عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین کے مطابق ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












