قندھار سے اُروزگان تک انتقام کی لہر، طالبان رجیم میں سابق افسران کی قبریں بھی غیر محفوظ

افغانستان میں ایک سابق پولیس افسر کی قبر مسمار کیے جانے کی خبر کو انسانی اقدار اور معاشرتی روایات کی سنگین پامالی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے طالبان رجیم کے طرز عمل پر ایک بار پھر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق صوبہ اُروزگان میں سابقہ حکومت کے پولیس افسر صدیق اللہ کی قبر کو مسمار کر دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قبر کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ جسد خاکی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صدیق اللہ کو دو ہزار اکیس میں قندھار میں قتل کیا گیا تھا۔ ان پر سابقہ افغان حکومت کے لیے خدمات انجام دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد اب قبر کی مسماری کے واقعے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اسی جریدے نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل پکتیکا اسپیشل پولیس کے سابق کمانڈر عزیز اللہ کروان کی قبر کو بھی بم دھماکے سے تباہ کیا گیا تھا۔ ان واقعات کو ناقدین سابق سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔
طالبان رجیم کی جانب سے ماضی میں سابق سرکاری اہلکاروں کے لیے عام معافی کے اعلانات کیے گئے تھے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات ان دعوؤں سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں خوف اور غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔
تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی معاشرے میں اختلاف رکھنے والوں یا ماضی سے وابستہ افراد کی قبریں بھی محفوظ نہ رہیں تو یہ اجتماعی اخلاقی زوال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پائیدار امن اور قومی مفاہمت کے لیے ضروری ہے کہ انسانی حرمت، عدل اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








