جرمنی اور برطانیہ نے روس کی بڑھتی فوجی تیاریوں پر مشترکہ انتباہ جاری کردیا

جرمنی اور برطانیہ کی اعلیٰ عسکری قیادت نے روس کی بڑھتی ہوئی فوجی تیاریوں پر مشترکہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو تیزی سے اپنی عسکری توجہ مغرب کی جانب منتقل کر رہا ہے، جس سے یورپ میں سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جرمن اخبار ڈی ویلٹ اور برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والے مضمون میں جرمن فوج کے انسپکٹر جنرل کارسٹن بروئر اور برطانوی مسلح افواج کے سربراہ رچرڈ نائٹن نے خبردار کیا کہ روسی فوج کی ازسرِنو تنظیم ایسے انداز میں کی جا رہی ہے، جو شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ممکنہ تصادم کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
دونوں فوجی سربراہان کے مطابق یوکرین میں جاری جنگ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ روس نہ صرف اپنی عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ یورپ میں بڑے پیمانے کی جنگ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماسکو کی حکمت عملی اور افواج کی نئی ترتیب اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مشترکہ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر یورپی ممالک کو اپنی فوجی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ دفاعی صلاحیت میں اضافہ کسی جنگی جنون کا اظہار نہیں بلکہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور دیرپا امن کیلئے ذمہ دارانہ قدم ہے۔
کارسٹن بروئر اور رچرڈ نائٹن نے اس امر پر بھی زور دیا کہ یورپی دفاعی صنعت کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کی جنگ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صنعتی بنیادیں کسی بھی طویل اور بڑی جنگ کو جاری رکھنے اور بالآخر کامیابی حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر دفاعی پیداوار مضبوط نہ ہو تو محض فوجی عزم کافی نہیں ہوتا۔
دونوں قیادت اس بات پر متفق نظر آئی کہ طاقت ہی جارحیت کو روک سکتی ہے، جبکہ کمزوری دشمن کو موقع فراہم کرتی ہے۔ ان کے بقول مضبوط دفاعی ڈھانچہ نہ صرف ممکنہ حملہ آور کو باز رکھتا ہے بلکہ خطے میں استحکام اور امن کے قیام کی ضمانت بھی بنتا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










