عالمی قیادت کا خلا، مغرب کی کمزوریاں: چین بغیر جنگ عالمی طاقت بن رہا ہے : فنانشل ٹائمز

فنانشل ٹائمز کی ایک خصوصی رپورٹ میں یہ اہم سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا چین کو عالمی جغرافیائی سیاست کی دوڑ جیتنے کے لیے کسی بڑی فوجی مہم جوئی کی ضرورت بھی ہے یا موجودہ عالمی حالات خود بخود اسے طاقت کے مرکز پر لے آئیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی نظام اس وقت ایک غیر معمولی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک اندرونی سیاسی اختلافات، معاشی دباؤ اور سماجی تقسیم جیسے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ اس اندرونی کمزوری نے عالمی قیادت کے ڈھانچے میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے، جس سے چین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
تجزیے کے مطابق مغربی دنیا کی داخلی ٹوٹ پھوٹ چین کے لیے ایک ایسا موقع بن چکی ہے جس کے لیے اسے کسی براہِ راست تصادم کی ضرورت نہیں۔ جہاں جہاں مغرب اپنی توجہ کم کر رہا ہے یا پیچھے ہٹ رہا ہے، وہاں چین خاموشی سے اپنے معاشی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیاء کے کئی حصوں میں بیجنگ کی بڑھتی ہوئی موجودگی اسی حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ چین نے تجارت اور سرمایہ کاری کو اپنے اثر و رسوخ کے بنیادی اوزار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سمیت متعدد اقتصادی پروگراموں کے ذریعے درجنوں ممالک کو اپنے معاشی دائرے میں شامل کیا ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت کسی بڑی طاقت سے جڑ جاتی ہے تو اس کے سیاسی فیصلوں پر بھی اس تعلق کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کر چین اپنی عالمی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اگر دنیا کے زیادہ تر ممالک تجارتی طور پر چین سے وابستہ ہو جائیں تو عالمی طاقت کا توازن خود بخود بیجنگ کی جانب جھک سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کسی بڑے عسکری تصادم کی ضرورت باقی نہیں رہتی بلکہ معاشی انحصار ہی فیصلہ کن عنصر بن جاتا ہے۔
رپورٹ میں مغرب کے سیاسی نظام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی مغربی ممالک میں سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلیوں اور عوامی بے چینی نے جمہوری ماڈل پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس کے برعکس چین کا نظام طویل مدتی منصوبہ بندی اور تسلسل پر زور دیتا ہے، جسے بعض ترقی پذیر ممالک ایک مستحکم متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
چین کی سب سے بڑی طاقت اس کی فوجی قوت نہیں بلکہ اس کی صبر آزما حکمت عملی اور معاشی جکڑ بندی ہے۔ بیجنگ براہِ راست تصادم کے بجائے انتظار، سرمایہ کاری اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔
رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر مغرب اپنے داخلی مسائل پر قابو نہ پا سکا اور عالمی قیادت کا خلا برقرار رہا تو عالمی نظام بتدریج چین کے گرد گھومنے لگے گا۔ اس صورت میں طاقت کی منتقلی کسی بڑے اعلان یا جنگ کے بغیر خاموشی سے وقوع پذیر ہو سکتی ہے، اور دنیا کا مرکزِ ثقل مشرق کی جانب منتقل ہو جائے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










