ماضی کے تجربات نظرانداز نہیں کرسکتے، اعتماد کا فقدان برقرار ہے : ایرانی ترجمان

ایرانی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا ایک ذمہ دار رکن ہے اور اس نے اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں اور حقوق کو تسلیم کیا ہوا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران کا بنیادی حق پُرامن مقاصد کیلئے جوہری توانائی کا استعمال ہے، جس میں افزودگی بھی شامل ہے۔ معاہدے کی چوتھی شق کے مطابق ایران کو جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کا حق حاصل ہے اور وہ اسی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران مذاکرات کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے، اسی لئے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں تمام متعلقہ ماہرین اور حکام موجود ہوں۔
ان کے مطابق ایران ایک مکمل ٹیم کے ساتھ شریک ہے، جس میں سیاسی، قانونی، اقتصادی اور فنی ماہرین شامل ہیں، تاکہ ہر پہلو سے مؤثر گفتگو کی جا سکے۔
اسماعیل بقائی نے اعتراف کیا کہ مذاکرات ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں، جہاں شکوک و شبہات اور عدم اعتماد کی فضا موجود ہے۔ ان کے بقول ایران ماضی کے تجربات کو نظرانداز نہیں کر سکتا اور انہی تجربات کی روشنی میں احتیاط کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ مذاکرات اور معاہدوں کے تجربات نے ایران کو یہ سکھایا ہے کہ ہر مرحلے پر محتاط رہنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی صورت ماضی کے واقعات کو ذہن سے اوجھل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ایران کو اس کی اجازت ہے۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی پالیسی واضح ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کا دفاع کرے گا اور ساتھ ہی اپنی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مقصد کشیدگی میں اضافہ نہیں بلکہ ایک ایسا معقول اور متوازن حل تلاش کرنا ہے جو بین الاقوامی خدشات کو بھی مدنظر رکھے اور ایران کے حقوق کا بھی تحفظ کرے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










