بدھ، 18-فروری،2026
بدھ 1447/09/01هـ (18-02-2026م)

ایران نے صدر ٹرمپ کی متعین کردہ تمام ریڈ لائنز کو قبول نہیں کیا : امریکی نائب صدر

18 فروری, 2026 09:19

جنیوا میں ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعین کردہ تمام ریڈ لائنز کو قبول نہیں کیا۔

فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ اب بھی سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ اگر تہران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو فوجی طاقت کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں۔ امریکی مطالبات میں ایران کی یورینیم افزودگی روکنا، افزودہ مواد کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنا اور اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا شامل ہیں۔

امریکہ کی جانب سے جن نکات کو ریڈ لائنز یعنی سرخ لکیریں قرار دیا گیا تھا، ان میں مغربی ایشیا میں مزاحمتی گروہوں کی مبینہ حمایت بھی شامل تھی، جن میں حماس اور حزب اللہ کا ذکر کیا جاتا رہا ہے، ساتھ ہی اسرائیلی ریاست پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کا معاملہ بھی امریکی مؤقف کا حصہ رہا ہے۔ تاہم جے ڈی وینس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس فہرست میں کسی قسم کی تبدیلی کی گئی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران سے معاہدہ آسان نہیں، وہ شہادت کو کامیابی کی معراج سمجھتے ہیں : امریکی وزیر خارجہ

جے ڈی وینس کے مطابق جنیوا مذاکرات بعض پہلوؤں سے مثبت رہے کیونکہ فریقین آئندہ ملاقات پر آمادہ ہوئے، لیکن ان کے بقول یہ بھی واضح ہو گیا کہ صدر نے جو ریڈ لائنز مقرر کی ہیں، ایرانی فریق فی الحال انہیں تسلیم کرنے یا ان پر عملی طور پر کام کرنے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ سفارتی کوششوں کو دوبارہ شروع کرے گا، تاہم صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ سفارت کاری کب اپنی حد کو پہنچ چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن امید کرتا ہے کہ معاملات اس نہج تک نہیں پہنچیں گے جہاں سفارتی راستہ بند ہو جائے، لیکن اگر ایسا ہوا تو حتمی فیصلہ صدر ہی کریں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔