بدھ، 18-فروری،2026
بدھ 1447/09/01هـ (18-02-2026م)

افغان پاسپورٹ دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار، طالبان دور میں عالمی تنہائی گہری ہو گئی

18 فروری, 2026 10:40

افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کو جس عالمی تنہائی، معاشی بحران اور سکیورٹی خدشات کا سامنا ہے، اس کی ایک اور واضح جھلک افغان پاسپورٹ کی تازہ عالمی درجہ بندی میں سامنے آئی ہے۔

معروف بین الاقوامی اشاریہ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس نے افغان پاسپورٹ کو دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دے دیا ہے، جس کے بعد طالبان حکومت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی حیثیت پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق تازہ درجہ بندی میں افغان پاسپورٹ 101 ویں اور آخری درجے پر پہنچ گیا ہے۔ اس فہرست میں دنیا بھر کے پاسپورٹس کو اس بنیاد پر پرکھا جاتا ہے کہ ان کے حامل افراد کتنے ممالک میں بغیر ویزا یا آن ارائیول ویزا کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ اس پیمانے پر افغانستان سب سے نچلی سطح پر آ گیا ہے، جو اس کی کمزور عالمی پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت افغان پاسپورٹ رکھنے والے افراد صرف 25 ممالک کا سفر کر سکتے ہیں، جو دنیا میں سب سے کم تعداد ہے۔ اس کے برعکس دیگر ممالک کے شہری سینکڑوں ممالک تک رسائی رکھتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کس حد تک سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان پاسپورٹ کی کمزور ترین درجہ بندی کا براہِ راست تعلق ملک کے خراب سفارتی تعلقات، انتظامی نااہلی اور سنگین سکیورٹی خدشات سے ہے۔ طالبان حکومت کو عالمی سطح پر محدود یا مشروط قبولیت حاصل ہے، جبکہ کئی ممالک اب بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ اس صورتحال نے نہ صرف افغانستان کی معیشت کو متاثر کیا ہے بلکہ عام شہریوں کی نقل و حرکت کو بھی شدید طور پر محدود کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : قندھار سے اُروزگان تک انتقام کی لہر، طالبان رجیم میں سابق افسران کی قبریں بھی غیر محفوظ

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کی سخت گیر اور انتہا پسندانہ پالیسیوں نے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور آزادیوں پر پابندیوں سمیت دیگر اقدامات نے بین الاقوامی سطح پر افغانستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ نتیجتاً دنیا کے کئی ممالک افغان شہریوں کے لیے ویزا پالیسیوں میں سختی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشتگردی اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سکیورٹی خدشات اور علاقائی عدم استحکام نے بیرونی سرمایہ کاری اور سفارتی روابط کو مزید محدود کر دیا ہے، جس کا براہِ راست اثر افغان عوام پر پڑ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے پاسپورٹ کی طاقت دراصل اس کی خارجہ پالیسی، سفارتی اثر و رسوخ، معاشی استحکام اور عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ افغان پاسپورٹ کا دنیا میں سب سے کمزور قرار پانا اس امر کی علامت ہے کہ طالبان حکومت عالمی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو تعلیم، روزگار، علاج اور دیگر ضروری مقاصد کے لیے بیرون ملک سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

افغانستان پہلے ہی معاشی بحران، بے روزگاری اور انسانی امداد پر انحصار جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں عالمی تنہائی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سفارتی سطح پر محدود روابط اور مالی پابندیوں نے ملکی معیشت کو کمزور کیا ہے جبکہ نوجوان نسل کے لیے بیرونی دنیا تک رسائی تقریباً مسدود ہو چکی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان عالمی برادری کے ساتھ مثبت اور تعمیری تعلقات استوار کرنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ تنہائی مزید گہری ہو سکتی ہے۔ افغان پاسپورٹ کی موجودہ درجہ بندی نہ صرف ایک عددی اشاریہ ہے بلکہ یہ اس وسیع تر بحران کی علامت بھی ہے جس کا سامنا ملک اس وقت کر رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔