معاشی مواقع کی دروازے پر دستک، کیا پاکستان داخلی چیلنج سنبھال پائے گا؟

وصی بابا تجزیہ کرتے ہیں کہ امریکی محکمہ خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیاء کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری سمیر پال کپور نے 11 فروری کو کانگریس کی ایک کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کو ایک اہم علاقائی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اب پاکستان کے ساتھ تعلقات کو محض سیکیورٹی تعاون تک محدود نہیں رکھنا چاہتا بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے نئے دروازے کھولنے کا خواہاں ہے۔ یہ بیان دوطرفہ تعلقات میں ایک ممکنہ تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں معاشی مفادات کو مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔
بریفنگ میں پاکستان کے معدنی وسائل کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ امریکا پاکستان کے منرل ریسورسز کو ترقی دینے کے لیے شراکت داری کا خواہشمند ہے۔ پاکستان کو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت کی کمی کا سامنا ہے، جب کہ امریکی بینک اور مالیاتی ادارے فنڈنگ فراہم کر سکتے ہیں اور نجی شعبہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کان کنی اور معدنیات کی پراسیسنگ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ تعاون نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے بلکہ عالمی سپلائی چین میں بھی اس کی اہمیت بڑھا سکتا ہے۔
کریٹیکل منرلز کے ذخائر اور ان کی سپلائی پر اس وقت چین کا کنٹرول ساٹھ سے نوے فیصد تک بتایا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں امریکا اس شعبے میں متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ایک موزوں شراکت دار بن سکتا ہے۔ چین کے ساتھ تعاون اپنی جگہ، لیکن چین کو فوری طور پر ان ذخائر کی پراسیسنگ کی ضرورت نہیں، جب کہ امریکا کو ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار کے لیے فوری رسد درکار ہے۔ خوراک اور توانائی کے شعبے بھی وہ میدان ہیں جہاں امریکی تعاون پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
دہشتگردی کے معاملے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون موجود ہے، تاہم ترجیحات میں فرق پایا جاتا ہے۔ امریکا القاعدہ اور داعش جیسے عالمی ایجنڈا رکھنے والے گروہوں کو براہ راست خطرہ سمجھتا ہے، جب کہ تحریک طالبان پاکستان کے معاملے میں اس کی دلچسپی محدود بتائی جاتی ہے۔ البتہ بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے خلاف امریکا زیادہ تعاون پر آمادہ ہو سکتا ہے کیونکہ معدنی شعبے میں طویل المدتی امریکی مفادات کو ان عناصر سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بی ایل اے علیحدگی پسند نہیں بلکہ منظم دہشت گرد نیٹ ورک ہے : امریکی دفاعی ماہر کی تحقیق
سمیر پال کپور کی کانگریس بریفنگ کے ساتھ ہی ان کے نائب جان مارک پوم روئے اسلام آباد میں موجود تھے اور پاکستانی حکام کو تعاون کا یقین دلا رہے تھے۔ افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ مبینہ طور پر پاکستان میں سرگرم مسلح تنظیموں کے ہاتھ لگ چکا ہے، جس کے باعث ملک کو دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ ان ہتھیاروں کو غیر مؤثر بنانے اور سیکیورٹی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے امریکا کی معاونت اہم سمجھی جا رہی ہے۔
امریکا نے پاکستان کو جنوبی ایشیاء اور وسطی ایشیاء میں اہم پارٹنر کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ یہ نئی دلچسپی معاشی تعاون اور کریٹیکل منرلز کے گرد گھومتی ہے، تاہم اس کے تزویراتی پہلو بھی نمایاں ہیں۔ وسطی ایشیا کو روس روایتی طور پر اپنے اثر و رسوخ کا علاقہ سمجھتا ہے، ایسے میں پاکستان کا کردار واشنگٹن کے لیے مزید اہم ہو سکتا ہے۔ امریکا یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ کریٹیکل منرلز کے شعبے میں تعاون کے امکانات تلاش کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ میدان عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ معیشت کی بحالی کے لیے بڑی سرمایہ کاری اور مستحکم شراکت داریوں کی ضرورت ہے، مگر اس کے لیے داخلی استحکام ناگزیر ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ دونوں صوبوں میں مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی مختلف دکھائی دیتی ہے، جس کے اثرات قومی سیاست پر بھی پڑ رہے ہیں۔
حال ہی میں بعض ایسے سوشل میڈیا شخصیات کو انگیج کیا گیا جو سیاسی مخالفت سے بڑھ کر ریاستی مخالفت تک جا پہنچی تھیں۔ 2 فروری کو سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات ہوئی، جس میں انہیں پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلا کر اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات بہتر بنانے کا مشورہ دیا گیا۔ اس کے بعد 4 فروری کو ایپکس کمیٹی اور 10 فروری کو اعلیٰ سطحی فالو اپ اجلاس منعقد ہوا، جن میں سول اور فوجی قیادت نے شرکت کی۔ ان ملاقاتوں کے بعد وزیر اعلیٰ کی گفتگو کے انداز میں تبدیلی محسوس کی گئی اور سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کی امید پیدا ہوئی۔
یہ تاثر ابھرا کہ اگر سیاسی کشیدگی میں کمی آتی ہے تو دہشتگردی سے نمٹنا آسان ہو جائے گا۔ بعض حلقوں میں ایک سیاسی رہنما کی اسپتال منتقلی اور ممکنہ ریلیف کی خبریں گردش کرنے لگیں، تاہم پارٹی کے اندر سے ہی ایسے ریلیف کو کمزوری قرار دیتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں معاملات دوبارہ تناؤ کی جانب لوٹتے دکھائی دیئے۔
امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری کی کانگریس میں دی گئی بریفنگ، امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف اور خطے میں ممکنہ نئی اوپننگ اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے مواقع موجود ہیں۔ تاہم اگر داخلی استحکام، سیاسی ہم آہنگی اور ریاستی اداروں کے درمیان ورکنگ ریلیشن مضبوط نہ ہو سکے تو یہ امکانات دھندلا سکتے ہیں۔
طویل المدتی طور پر شاید بنیادی تزویراتی توازن برقرار رہے، مگر وہ معاشی اور سفارتی فوائد حاصل نہیں ہو سکیں گے جو ایک مستحکم داخلی ماحول میں ممکن ہیں۔ ایسے میں خدشہ یہی ہے کہ نرم سفارتی امکانات کے بجائے پالیسی کا رخ مزید سخت ریاستی انداز کی طرف مڑ سکتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












