نو لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو پاکستانی پاسپورٹس جاری ہونے کا انکشاف

سیاسی تجزیہ کار علی کے چشتی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں بدعنوان عناصر اور بعض سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے افغان باشندوں نے تقریباً نو لاکھ پچاس ہزار پاسپورٹس غیر قانونی طور پر حاصل کیئے ہیں۔
علی کے چشتی کے مطابق یہ معاملہ محض انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک سنگین سیکیورٹی بریچ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر غیر ملکی افراد بڑی تعداد میں پاکستانی شناختی دستاویزات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کے اثرات داخلی سلامتی، سرحدی نگرانی اور عالمی سفارتی تعلقات تک پھیل سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے ان پاسپورٹس اور شناختی کارڈز کو ٹریک کر کے بلاک کرنے کا اقدام ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق اس معاملے پر کسی بھی کارروائی پر قوم پرست جماعتوں، خصوصاً اچکزئی گروپ، اور پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے سخت ردعمل متوقع ہے۔ ان حلقوں کی طرف سے ممکنہ احتجاج اور شور و غوغا کو وہ ریاست کے لیے ایک نیا چیلنج قرار دیتے ہیں، کیونکہ ایک طرف سیکیورٹی تقاضے ہیں تو دوسری طرف سیاسی حساسیت اور عوامی ردعمل کا دباؤ بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں : افغان پاسپورٹ دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار، طالبان دور میں عالمی تنہائی گہری ہو گئی
حالیہ خبروں میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں پکڑے جانے والے کئی افغان باشندوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کے امیگریشن نظام کی ساکھ کو براہ راست متاثر کیا ہے۔
یہ صورتحال اس وسیع تر مسئلے کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے اثرات کس طرح پاکستان کے انتظامی ڈھانچے اور گورننس پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ سرحدی نقل و حرکت، مہاجرین کا مسئلہ، غیر قانونی رہائش اور دستاویزات کا حصول ایسے عوامل ہیں جو اگر شفاف اور مؤثر نظام کے تحت نہ ہوں تو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل چیلنج صرف غیر قانونی پاسپورٹس کی منسوخی نہیں بلکہ اس پورے نیٹ ورک کی نشاندہی اور احتساب ہے جس نے یہ ممکن بنایا۔ اگر کرپٹ اہلکاروں اور سہولت کاروں کے خلاف واضح اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو مسئلہ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے مگر جڑ سے ختم نہیں ہوگا۔ دوسری جانب، اگر ریاست فیصلہ کن قدم اٹھاتی ہے تو اسے سیاسی اور سماجی ردعمل کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












