موساد کی ایران میں رسائی پر بیجنگ کی تشویش، چین نے تہران میں حفاظتی حصار مضبوط کر دیا

بیجنگ میں پالیسی ساز حلقے اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایران کے اندر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی بڑھتی ہوئی رسائی کس نوعیت کے خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
معروف اشاعتی ادارے دا کریڈل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق چینی فوجی ماہرین اور انٹیلی جنس ادارے موساد کی ایران میں گہری دراندازی کو عالمی سلامتی کے لیے خطرناک رجحان قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ صورت حال ایسے دروازے کھول رہی ہے جو مستقبل میں بڑے جغرافیائی اور تزویراتی عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
چینی تجزیہ کاروں کے مطابق دو ہزار پندرہ کے بعد اور خاص طور پر دو ہزار پچیس اور دو ہزار چھبیس کے دوران اسرائیلی اور امریکی خفیہ سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آئی۔ بیجنگ کے نقطہ نظر سے یہ ایک نئے طرز کی جنگی فضا کی تشکیل ہے۔ موساد کی جانب سے ایران کے اندر ایجنٹوں کی تعیناتی، حساس ڈیٹا بیس تک رسائی، ریڈار نظام کو غیر مؤثر بنانا اور اندرون ملک سے درست نشانے لگوانا اس نئے ماڈل کی مثالیں قرار دی جا رہی ہیں۔
چینی سلامتی مباحث میں اس رجحان کو روایتی میدانِ جنگ سے ہٹ کر ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سائبر تخریب کاری، اندرونی بھرتی، تکنیکی رسائی اور عملی ہم آہنگی مل کر دفاعی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ اس طرزِ عمل میں کھلے معرکے سے پہلے ہی مخالف ریاست کی مزاحمتی صلاحیت کمزور کر دی جاتی ہے۔
رین من یونیورسٹی کے مشرقِ وسطیٰ مطالعاتی ادارے کے سربراہ تیان ون لن نے خبردار کیا کہ مسلسل خفیہ دباؤ تہران کو دفاعی ردعمل کے طور پر اپنی جوہری صلاحیت تیز کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
چینی مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے سلامتی اور انتظامی نظام میں سامنے آنے والی دراڑیں دیگر ممالک کے لیے بھی سبق ہیں۔ اگر ایک ایسا ملک جس کے پاس وسیع سکیورٹی ادارے موجود ہوں اس نوعیت کی دراندازی کا شکار ہو سکتا ہے تو اسی طرز کی کارروائیاں دیگر خطوں میں تجارتی اور توانائی راہداریوں کو بھی نشانہ بنا سکتی ہیں۔ خاص طور پر چین کے عالمی معاشی منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام سے جڑی راہداریوں کے لیے یہ خدشات اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 47 برس بعد بھی امریکہ اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ نہ کر سکا اور نہ کبھی کر سکے گا : رہبر اعلیٰ
ایران چین کے لیے جغرافیائی طور پر نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔ مشرقی ایشیا کو مغربی ایشیا اور پھر یورپ سے ملانے والی زمینی اور بحری گزرگاہوں میں ایران کلیدی مقام رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے راستے چینی توانائی سلامتی اور تجارتی بہاؤ کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ ایران کے اندر عدم استحکام ان راہداریوں پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے، جس سے بیجنگ کی طویل مدتی سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں چین نے تہران کے ساتھ انسدادِ جاسوسی تعاون کو وسعت دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق چینی وزارتِ ریاستی سلامتی کے ایک خصوصی شعبے نے دو ہزار چھبیس کے آغاز میں اسرائیلی اور امریکی جاسوسی نیٹ ورکس کے تجزیے اور انہیں غیر مؤثر بنانے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کی۔ اس میں ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانا، مغربی سافٹ ویئر کے متبادل محفوظ نظام فراہم کرنا اور خفیہ رسائی کے راستوں کی نشاندہی شامل ہے۔ اس حکمت عملی کو بعض حلقوں میں گریٹ ڈیجیٹل وال کی تعمیر سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
چین نے اپنے بیڈو سیٹلائٹ نظام کے استعمال کو فروغ دینے کی بھی حوصلہ افزائی کی تاکہ مغربی نیویگیشن نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔ جدید ریڈار نظام اور فضائی دفاعی پلیٹ فارم، جیسے ایچ کیو نو بی، کی فراہمی کے ذریعے فضائی نگرانی کی صلاحیت بڑھانے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ خلائی نگرانی اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کے ذریعے معلوماتی برتری حاصل کرنا اس وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
دو طرفہ تعاون کے علاوہ بیجنگ نے ایران کو علاقائی سکیورٹی ڈھانچوں میں بھی مزید فعال کرنے کی کوشش کی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی اور معلوماتی تبادلے کا نظام موجود ہے، جسے اب وسیع تر سکیورٹی ہم آہنگی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایران کی مکمل رکنیت کے بعد اس تنظیم کے ذریعے تہران کو ایک بڑے یوریشیائی سلامتی نیٹ ورک میں ضم کیا جا رہا ہے۔
معاشی سطح پر بھی چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ توانائی کی خریداری، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور طویل مدتی تعاون کے معاہدے اس تعلق کو مضبوط بناتے ہیں۔ متبادل مالیاتی طریقہ کار، جیسے تیل کے بدلے ترقیاتی منصوبے، پابندیوں کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اسٹریٹجک استحکام کو تقویت دیتے ہیں۔
بیجنگ کی حکمت عملی میں براہ راست عسکری محاذ آرائی سے گریز نمایاں ہے۔ چین بین الاقوامی فورمز پر ایران کی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصول کی حمایت کرتا ہے، مگر کھلے تصادم سے بچتے ہوئے ادارہ جاتی مضبوطی، تکنیکی تحفظ اور معاشی انضمام پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ اس کثیر جہتی ردعمل میں انتقام سے زیادہ مضبوطی اور احتیاط کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









