بی ایل اے کی مالی شہہ رگ پر وار، پاک ایران سرحد پر ون ڈاکومنٹ نظام نافذ کرنے کا فیصلہ

پاکستان نے عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ معاشی محاذ پر بھی بی ایل اے سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف حکمت عملی کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب سرحدی نظم و نسق کو اس انداز میں تبدیل کیا جا رہا ہے کہ غیر قانونی تجارت، اسمگلنگ اور دیگر غیر رسمی ذرائع سے حاصل ہونے والی مالی معاونت کا راستہ بند کیا جا سکے۔ اس پالیسی کا مرکزی نکتہ پاک ایران سرحد پر راہداری نظام کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دینا ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے گنجائش باقی نہ رہے۔
اطلاعات کے مطابق آئندہ دو ماہ کے اندر ایران سے ملحق سرحدی گزرگاہوں پر ون ڈاکومنٹ نظام نافذ کر دیا جائے گا۔ اس نئے انتظام کے تحت آمد و رفت صرف باقاعدہ سفری دستاویزات کے ذریعے ممکن ہوگی اور پاسپورٹ کو لازمی قرار دیا جائے گا۔ اس سے قبل سرحدی علاقوں میں بارٹر سسٹم اور مخصوص پاس سسٹم کے تحت نقل و حرکت کی اجازت دی جاتی تھی، جسے بعض عناصر کی جانب سے غلط استعمال کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بیانیہ، خوف اور حقیقت، بلوچستان کی زمینی صورتحال پر سکیورٹی فیصلوں کے پیچیدہ پہلو
حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی تجارت، منشیات کی کاشت، اسمگلنگ اور دیگر غیر رسمی سرگرمیوں کو اب کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سرحدی پٹی میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ بلا امتیاز کارروائی کریں اور کسی بھی غیر قانونی نقل و حرکت کو فوری طور پر روکا جائے۔
حکام کے مطابق سرحدی معیشت کو شفاف اور دستاویزی بنانے کا مقصد صرف قانونی تجارت کو فروغ دینا نہیں بلکہ ان ذرائع کو بند کرنا بھی ہے جن سے بعض مسلح تنظیمیں مالی معاونت حاصل کرتی رہی ہیں۔ ان میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی بھی شامل ہے، جو غیر قانونی سرحدی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق جب راہداری نظام مکمل طور پر ون ڈاکومنٹ رجیم میں تبدیل ہو جائے گا تو اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کا دائرہ محدود ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ایسے گروہوں کی مالی سپورٹ کو نمایاں دھچکا لگنے کی توقع ہے جو سرحدی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
یہ اقدام ایک وسیع تر پالیسی کا حصہ بتایا جا رہا ہے جس کے تحت بلوچستان اور دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی، گورننس اور معاشی نظم کو یکجا کر کے استحکام پیدا کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف عسکری کارروائیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ مالی ذرائع کو خشک کرنا بھی ضروری ہے تاکہ شدت پسند تنظیمیں اپنی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکیں۔
نئے نظام کے نفاذ کے بعد تمام سرحدی نقل و حرکت باقاعدہ اندراج، شناخت اور نگرانی کے تحت ہوگی۔ اس سے نہ صرف غیر قانونی تجارت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ قانونی کاروبار کرنے والے تاجروں کے لیے بھی شفاف اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم ریاستی رٹ کو مضبوط بنانے، سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے اور غیر قانونی معیشت کے خاتمے کی سمت ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












