کینیڈا کا امریکہ پر انحصار ختم کرنے کیلئے نصف کھرب ڈالر کے تاریخ ساز دفاعی منصوبے کا اعلان

کینیڈا نے اپنی قومی سلامتی اور دفاعی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے ایک وسیع اور غیر معمولی دفاعی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے جس کا بنیادی مقصد امریکہ پر انحصار کم کرنا اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں خود کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے اس دفاعی صنعتی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ کینیڈا نے ایک طویل عرصے تک اپنے جغرافیے اور دوسروں کے سہارے پر انحصار کیا، مگر اب دنیا پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہو چکی ہے اور یہ طرزِعمل مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا۔
مارک کارنی کا کہنا تھا کہ کینیڈا نے اپنی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں ایسے انحصارات پیدا ہوئے جو اب ناقابلِ برداشت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بدلتے عالمی حالات میں یہ ضروری ہو چکا ہے کہ ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ازسرِنو منظم کرے اور ایسے ڈھانچے تشکیل دے جو اسے بیرونی فیصلوں کا محتاج نہ بنائیں۔
وزیرِاعظم نے حالیہ دنوں میں امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو کی میونخ سکیورٹی کانفرنس میں کی گئی تقریر کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کینیڈا اور امریکہ کے نظریات کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کا قوم پرستی کا تصور شہری بنیادوں پر قائم ہے، جہاں تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ دیگر اقسام کی قوم پرستی سے ایک نظریاتی مسابقت جنم لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 47 برس بعد بھی امریکہ اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ نہ کر سکا اور نہ کبھی کر سکے گا : رہبر اعلیٰ
میونخ کانفرنس میں مارکو روبیو نے مغربی تہذیب کو مسیحی ایمان، ثقافت اور ورثے سے جوڑا تھا، جس پر مارک کارنی نے بالواسطہ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا ایک وسیع اور متنوع ملک ہے، جہاں ریاست کا فریضہ ہر شہری کے حقوق کا دفاع کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک شناخت کو فوقیت دینا۔
کینیڈین وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق یہ دفاعی صنعتی حکمت عملی ملکی سلامتی، معاشی خوشحالی اور خودمختاری کے لیے نصف کھرب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری پر مشتمل ہے۔
آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً اسی ارب کینیڈین ڈالر براہِ راست دفاعی اخراجات کی مد میں خرچ کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آئندہ دہائی کے دوران دفاعی سازوسامان کی خریداری پر ایک سو اسی ارب کینیڈین ڈالر جبکہ دفاع اور سلامتی سے متعلق بنیادی ڈھانچے پر دو سو نوے ارب کینیڈین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
کینیڈین چیمبر آف کامرس نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرمایہ کاری غیر معمولی ہے اور اس کا اصل امتحان اس بات سے ہوگا کہ آیا اس کے نتیجے میں کینیڈین مسلح افواج مزید مضبوط اور مؤثر بنتی ہیں یا نہیں۔
اگرچہ مارک کارنی نے امریکہ پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کینیڈا دفاعی معاملات میں تنہا راستہ اختیار کرے گا۔ ان کی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ عسکری تعاون کو وسعت دینے کے اقدامات کیے ہیں اور میونخ کانفرنس کے دوران کینیڈا نے یورپی سلامتی پروگرام میں باضابطہ شمولیت اختیار کی، یوں وہ اس دفاعی مالیاتی اسکیم میں شامل ہونے والا پہلا غیر یورپی ملک بن گیا۔
وزیرِاعظم نے ایشیائی ممالک کے ساتھ دفاعی برآمدات کے نئے مواقع تلاش کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا، خصوصاً جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کی بات کی۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ کینیڈا اتنا مضبوط ہو کہ وہ دوسروں کا انتخابی شراکت دار بن سکے، نہ کہ کسی اور کے فیصلوں کا یرغمال۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قومی سلامتی کے حوالے سے کسی بھی بیرونی فیصلے کا محتاج نہ رہنے کے لیے ایک مضبوط مقامی دفاعی صنعتی بنیاد کا قیام ناگزیر ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









