جمعہ، 20-فروری،2026
جمعہ 1447/09/03هـ (20-02-2026م)

باجوڑ دھماکے کا حملہ آور افغان طالبان کی خصوصی فورس کا سابق اہلکار نکلا

20 فروری, 2026 11:57

پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے سامنے آنے والے ناقابل تردید شواہد نے سرحد پار روابط کی ایک بار پھر نشاندہی کی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق رواں ماہ 16 فروری کو باجوڑ کی ملنگی پوسٹ پر ہونے والے خودکش حملے میں ملوث حملہ آور کی شناخت خارجی احمد عرف قاری عبداللہ ابوذر کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ بلخ کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ اس حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکاروں اور 2 شہریوں نے جان کا نذرانہ پیش کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملہ آور ماضی میں افغان طالبان کی خصوصی فورس کا حصہ رہ چکا تھا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ان شواہد میں شامل ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق رواں ماہ ہی چھ فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خودکش حملہ کرنے والے بمبار نے بھی افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔ اسی طرح گزشتہ سال 11 نومبر کو اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس اور چوبیس نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز پشاور پر حملوں میں ملوث عناصر کے افغانستان سے روابط سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں : ہیلری کلنٹن کی طالبان حکومت پر کڑی تنقید، افغان خواتین کے مستقبل پر تشویش کا اظہار

گزشتہ برس 10 اکتوبر کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس ٹریننگ سینٹر اور 10 نومبر کو وانا کیڈٹ کالج پر حملوں میں بھی افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات دی گئیں۔ 19 اکتوبر کو جنوبی وزیرستان میں گرفتار ہونے والا خودکش بمبار نعمت اللہ ولد موسی جان بھی افغان صوبہ قندھار کا رہائشی بتایا گیا۔

چار مارچ کو بنوں کینٹ حملے کی منصوبہ بندی افغانستان سے کیے جانے کی تصدیق بھی حکام نے کی، جبکہ 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس پر حملے کے سہولت کاروں کے افغانستان میں موجود خارجی نور ولی سے رابطوں کا انکشاف ہوا تھا۔ 3 ستمبر کو گرفتار ہونے والے خودکش بمبار روح اللہ کے اعترافی بیان میں بھی سرحد پار روابط کا ذکر کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں برسر اقتدار طالبان حکومت کی شدت پسند تنظیموں کو پشت پناہی کے باعث دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر آ رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بڑی تعداد افغان عناصر کی شمولیت کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد افغانی ملوث ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی، مؤثر انٹیلی جنس تعاون اور دو طرفہ سفارتی رابطوں کے بغیر اس چیلنج پر قابو پانا مشکل ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ اور سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔