ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)
تازہ ترین خبریں

غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم کیسے حاصل کریں؟ اسٹیٹ بینک نے آسان طریقہ بتادیا

23 فروری, 2026 12:56

بینکوں میں موجود وہ رقوم جن پر گزشتہ 10 سال سے کوئی لین دین نہیں ہوا، انہیں غیر دعویٰ شدہ (Unclaimed) ڈپازٹس کہا جاتا ہے۔ ایسے اکاؤنٹس میں نہ تو کوئی ٹرانزیکشن ہوئی ہوتی ہے اور نہ ہی اکاؤنٹ ہولڈر نے اسٹیٹمنٹ حاصل کی ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق یہ رقوم اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے کر دی جاتی ہیں۔

بینکنگ کمپنیز آرڈیننس 1962 کے سیکشن 31 کے تحت تمام بینکوں اور ڈی ایف آئیز پر لازم ہے کہ وہ 10 سال تک غیر فعال رہنے والے فکسڈ ڈپازٹس، چیکس، ڈرافٹس اور بلز آف ایکسچینج اسٹیٹ بینک کو منتقل کریں۔ البتہ کم عمر افراد، حکومتی اداروں یا عدالتوں کے اکاؤنٹس اس میں شامل نہیں ہوتے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شہریوں کی سہولت کے لیے غیر دعویٰ شدہ رقوم کی مکمل فہرست ویب سائٹ پر جاری کر رکھی ہے۔ اس فہرست میں برانچ کا نام، صوبہ، اکاؤنٹ ہولڈر کا نام، شناختی کارڈ نمبر، پتہ اور رقم کی تفصیل شامل ہے۔ شہری اپنی مطلوبہ معلومات کمپیوٹر پر Ctrl+F کے ذریعے بھی تلاش کر سکتے ہیں۔

 

 

اگر کوئی شہری اپنی یا اپنے مرحوم عزیز کی غیر دعویٰ شدہ رقم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے متعلقہ بینک برانچ سے رابطہ کرنا ہوگا جہاں اکاؤنٹ کھولا گیا تھا یا مالی دستاویز قابل ادائیگی تھی۔ اگر وہ برانچ بند یا منتقل ہو چکی ہو تو قریبی برانچ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

رقم کی واپسی کے لیے درخواست گزار کو دستخط شدہ درخواست، شناختی کارڈ کی کاپی اور دیگر ضروری دستاویزات جمع کروانی ہوں گی۔ اکاؤنٹ ہولڈر کے انتقال کی صورت میں جانشینی سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔ ایک لاکھ روپے سے کم رقم کی صورت میں تمام ورثاء کا حلف نامہ اور متعلقہ دستاویزات بھی جمع کرانا ہوں گی۔

بینک برانچ درخواست اور ریکارڈ اسٹیٹ بینک کو بھیجتی ہے۔ تصدیق کے بعد رقم متعلقہ بینک کو واپس کی جاتی ہے اور پھر درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس نظام سے شہری آسانی سے اپنی یا اپنے مرحوم عزیز کی غیر دعویٰ شدہ رقوم حاصل کر سکتے ہیں۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔