پیر، 9-مارچ،2026
پیر 1447/09/20هـ (09-03-2026م)

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی؛ عالمی سطح پر تیل کی قیمت کہاں تک جا سکتی ہے؟ بڑی پیشگوئی سامنے آگئی

09 مارچ, 2026 13:42

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع نے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات مزید خراب ہوئے تو دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے کئی ممالک کو معاشی طور پر محتاط کر دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان واقعات کے باعث پورا مشرق وسطیٰ ایک نئی جنگی کیفیت کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس تنازع کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔

توانائی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے مطابق اگر جنگ لمبے عرصے تک جاری رہی تو خلیجی ممالک سے تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی نے بھی اس صورتحال پر خبردار کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر جنگ کے باعث خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں جاری تناؤ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خلیجی ممالک کے توانائی برآمد کرنے والے ادارے چند ہی دنوں میں اپنی پیداوار روکنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔

قطری وزیر کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دنیا بھر کی معیشت کو متاثر کرے گا۔ اس سے کاروباری سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر تنازع جلد ختم بھی ہو جائے تو تیل اور گیس کی عالمی سپلائی کو مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے یا حتیٰ کہ مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔