پاکستان کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے، فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کی پناہ گاہیں تباہ

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں انتہائی دقیق فضائی کارروائیوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے چار اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کا اپنی ملکی حدود کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے جاری آپریشن غضب للحق کے تحت ایک بڑی اور کامیاب کارروائی کی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارہ اور تیرہ مارچ کی درمیانی شب کیے گئے فضائی حملوں میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے چار اہم دہشت گرد ٹھکانوں بشمول ان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کارروائیوں کا دائرہ کار کابل، قندھار اور پکتیا تک پھیلا ہوا تھا، جہاں دہشت گردوں نے اپنے نیٹ ورکس قائم کر رکھے تھے۔
کابل میں کی گئی کارروائی کے دوران تین سو تیرہ کور کے انفرا اسٹرکچر کو مکمل طور پر نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جو دہشت گردوں کی منصوبہ بندی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا تھا۔
فضائی کارروائیوں کا تسلسل قندھار تک جاری رہا، جہاں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق قندھار میں واقع تراوو دہشت گرد کیمپ کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، جس سے ان کے تنظیمی ڈھانچے کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فتنہ الخوارج کی افغانستان میں موجودگی پر عالمی تشویش، اقوام متحدہ نے حقائق سامنے رکھ دیئے
اسی دوران پاک فضائیہ کی جانب سے انتہائی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قندھار میں ایئر فیلڈ کی آئل اسٹوریج سائٹ اور اس سے ملحقہ لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کارروائی کا مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت اور ان کی سپلائی لائن کو منقطع کرنا تھا۔
صوبہ پکتیا میں بھی ایک اور اہم فضائی حملے کے دوران شیرِ ناو دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں دہشت گرد موجود تھے۔
سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشنز انتہائی مربوط اور ہدف کے حصول پر مبنی تھے۔ عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت یہ کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی، جب تک کہ تمام مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








