بھارت میں مظالم بند نہ ہوئے تو سکھ اپنی بقا کے لیے ہتھیار اٹھائیں گے، سکھ فار جسٹس

سکھ فارجسٹس کے رہنما نے بھارتی پنجاب میں جاری مظالم کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے سکھوں کی جانب سے مسلح جدوجہد کے آغاز کی دھمکی دی ہے۔
سکھ فارجسٹس کے مرکزی رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے ایک تازہ بیان میں بھارتی حکومت کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی پنجاب میں سکھ اب خاموش نہیں بیٹھیں گے اور وہ اپنی بقاء کے لیے ہتھیار اٹھانے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سکھوں پر کئے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیاں انہیں مسلح جدوجہد کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت عالمی سائبر فراڈ مافیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا، میٹا کی رپورٹ نے بھارتی دعوؤں کی پول کھول دی
گرپتونت سنگھ پنوں کا مطالبہ ہے کہ بھارت فوری طور پر پنجاب میں ریاستی جبر بند کرے اور سکھوں کو ان کے جمہوری حق یعنی خالصتان ریفرنڈم کی اجازت دی جائے۔
سکھ فارجسٹس کے رہنما نے بھارت کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ نئی دہلی اپنی ظالمانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے، بصورتِ دیگر سکھوں کے پاس دفاع کے لیے ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








