ایران کا عالمی ایٹمی معاہدے سے علیحدگی پر غور

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں عالمی ایٹمی معاہدے سے نکلنے کی دھمکی دے دی ہے۔
ایران میں سیاسی قیادت اس وقت عالمی ایٹمی معاہدے سے مکمل علیحدگی پر غور کر رہی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے سویلین ایٹمی مراکز، اسٹیل فیکٹریوں اور جامعات پر حملوں کے بعد اس معاہدے میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد ایران کی ایٹمی حکمت عملی میں ممکنہ تبدیلی
ایرانی حکام نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی پر بھی جانبدار ہونے کا الزام لگایا ہے اور انہیں اسرائیلی حملوں میں شریک جرم قرار دیا ہے۔
زمینی صورتحال کے مطابق اسرائیلی اور امریکی طیاروں نے یزد اور اراک کی ایٹمی تنصیبات سمیت اصفہان اور اہواز کی بڑی اسٹیل فیکٹریوں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ملک کی معیشت اور روزگار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تہران میں بھی شدید بمباری کی گئی ہے، جس کی زد میں ایران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بھی آئی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









