آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود ٹرمپ کا ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کو تیار

امریکی انتظامیہ نے ایران کے خلاف جاری جارحیت میں پسپائی کا اشارہ دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر تہران کے مضبوط کنٹرول کو ختم کرنا واشنگٹن کے بس سے باہر ہو چکا ہے، جس کے باعث صدر ٹرمپ اب بندش کے باوجود جنگ بندی پر غور کر رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری امریکی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، چاہے عالمی معیشت کے لیے اہم ترین تجارتی راستہ آبنائے ہرمز بند ہی کیوں نہ رہے۔
امریکی انتظامیہ کے حکام کے مطابق یہ فیصلہ تہران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ پر سخت گرفت اور امریکی طاقت کی حدود واضح ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھلوانے کی کوشش جنگ کو ان کے مقررہ چار سے چھ ہفتوں کے ٹائم لائن سے بہت آگے لے جا سکتی ہے، جو صدر کے لیے قابل قبول نہیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ ماننا ہے کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ اور میزائل ذخائر کو کافی حد تک نقصان پہنچا کر اپنے بنیادی مقاصد حاصل کر لیے ہیں، لہٰذا اب لڑائی کو سمیٹنا چاہیے۔
اس وقت امریکہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ براہ راست تصادم کے بجائے سفارتی دباؤ اور ایران کی بحریہ و میزائل صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے پر توجہ دے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی مزاحمت کے سامنے یہ حکمت عملی اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔
امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اگر یہ کوششیں ناکام رہیں تو واشنگٹن اپنے یورپی اور خلیجی اتحادیوں پر زور دے گا کہ وہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے آگے بڑھیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایٹمی ہتھیار کی تیاری نہ چھوڑی تو ایران کا وجود ختم ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ
ایک اہلکار نے اعتراف کیا کہ اگرچہ فوجی آپشنز موجود ہیں، لیکن صدر کی فوری ترجیحات میں یہ شامل نہیں، جو امریکی ہچکچاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
صدر ٹرمپ کے متضاد بیانات نے بھی صورتحال کو پیچیدہ کر دیا ہے، جہاں وہ کبھی ایرانی شہری توانائی کے ڈھانچے پر حملوں کی دھمکیاں دیتے ہیں تو کبھی آبنائے ہرمز کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے کنٹرول کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، جس نے واشنگٹن کی عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کی دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے یہ جنگ مل کر شروع کی تھی اور اب وہ اس کے معاشی اثرات سے نہیں بچ سکتے۔
وائٹ ہاؤس اور امریکی وزارت خارجہ کے بیانات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اب اس معاملے کی ذمہ داری ایران یا عالمی اتحاد پر ڈال کر خود کو محفوظ راستہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










