ایرانی پارلیمنٹ میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا نیا قانون منظور، ایرانی کرنسی میں ٹیکس عائد

ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کے حوالے سے ایک انقلابی بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت اس عالمی شاہراہ سے گزرنے والے جہازوں پر بھاری فیس عائد کرنے اور دشمن ممالک کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی نے آبنائے ہرمز کے انتظام کا مسودہ قانون منظور کر لیا ہے، جو اس تزویراتی گزرگاہ پر تہران کے کنٹرول کو مزید قانونی اور مستحکم بنا دے گا۔
ایرانی قانون سازوں کے مطابق اس بل میں سلامتی کے انتظامات، بحری جہاز رانی کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے جامع اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
اس نئے قانون کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی کرنسی میں فیس ادا کرنا ہوگی، جس سے ایران کو اربوں ڈالر ماہانہ کی آمدنی متوقع ہے۔
اس قانون کے تحت امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ بحری جہازوں کے گزرنے پر مکمل پابندی ہوگی، جبکہ ان ممالک کے جہازوں کو بھی روکا جا سکے گا، جو ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب میں امریکی ایئر بیس پر ایرانی حملہ، جاسوسی طیارہ تباہ، 10 فوجی بھی زخمی
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظامی نظام اب تبدیل ہو چکا ہے اور یہ کبھی اپنی پرانی حالت پر واپس نہیں آئے گا۔ اس اقدام کا مقصد ایران کے تزویراتی فوائد کو معاشی اور سیکیورٹی ضمانتوں میں تبدیل کرنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس جنگ سے ایک مضبوط قوت بن کر ابھر رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ ایک سو چالیس کے قریب بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں اور فی جہاز بیس لاکھ ڈالر تک کی فیس وصول کرنے سے ایران کو مستقل آمدنی کا ذریعہ مل جائے گا۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے فوجی دباؤ کو معاشی برتری میں بدل کر امریکہ اور اسرائیل کی سفارتی و فوجی طاقت کی حدود واضح کر دی ہیں۔ اس بل کی منظوری میں سلطنت عمان کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی اہمیت دی گئی ہے تاکہ قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










