مودی کی دوغلی پالیسی کا شاخسانہ، آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کے 18 بھارتی جہاز پھنس گئے

آبنائے ہرمز میں ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی لے جانے والے 18 بھارتی جہاز محصور ہو چکے ہیں، جس کے باعث بھارت میں ایندھن کی قلت نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص خارجہ پالیسی اور دوغلی سفارتی چالوں نے بھارت کو ایک بڑے معاشی اور توانائی کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق، بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ خلیج فارس میں بھارت کو ایندھن فراہم کرنے والے 10 غیر ملکی پرچم والے جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایل پی جی، خام تیل اور ایل این جی سے لدے ہوئے 18 بھارتی پرچم والے جہاز بھی آبنائے ہرمز میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے اثرات صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے گردونواح کے تمام علاقے اب ہائی رسک ایریا قرار دیے جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کا شائننگ انڈیا زمیں بوس، بھارتی معیشت بدترین بحران کا شکار
ایرانی حکام نے اس حوالے سے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے کہ اب صرف برادر ممالک کے بحری جہاز ہی ایرانی حکام کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور اجازت کے بعد اس اہم تجارتی راستے سے گزر سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی اسرائیل نوازی نے تہران کے ساتھ نئی دہلی کے تعلقات کو شدید متاثر کیا ہے، جس کا خمیازہ اب بھارت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
عالمی ماہرینِ معیشت کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور آبنائے ہرمز جیسے کلیدی تجارتی راستے کے مفلوج ہونے سے بھارت میں ایندھن کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے۔
مودی حکومت کی غیر مؤثر منصوبہ بندی اور علاقائی صورتحال کو بھانپنے میں ناکامی نے بھارت کو توانائی کے ایسے گرداب میں پھنسا دیا ہے، جس سے نکلنا اب ناممکن نظر آتا ہے۔
بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معطل ہونے سے صنعتیں اور ٹرانسپورٹ کا شعبہ بھی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









