جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

ایران جنگ نے امریکی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا، دو ارب ڈالر یومیہ اخراجات پر عوامی تشویش

01 اپریل, 2026 11:26

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ امریکی معیشت کے لیے انتہائی مہنگی ثابت ہو رہی ہے، جس کے اخراجات دو ارب ڈالر یومیہ تک پہنچ چکے ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اقتصادی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ امریکی خزانے پر روزانہ دو ارب ڈالر کا بوجھ ڈال رہی ہے۔

براؤن یونیورسٹی کے کاسٹ آف وار پروجیکٹ کی ڈائریکٹر اسٹیفنی سیول کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں، فوجی اخراجات اور امریکی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصان کو ملا کر اب تک امریکہ اربوں ڈالر گنوا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : میزائل اور ڈرون پیداوار جاری ہے، امریکی اسٹیلتھ طیارے اب محفوظ نہیں، ایرانی ایرو اسپیس فورس

ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا ہر گزرتا دن امریکہ کے عوامی قرضوں میں بھاری اضافہ کر رہا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک ہے۔

پینٹاگون نے حال ہی میں کانگریس کو بتایا تھا کہ جنگ کے پہلے چھ دنوں میں گیارہ ارب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آئے ہیں، تاہم ہارورڈ یونیورسٹی کی ماہر لنڈا بلمز کا ماننا ہے کہ حقیقت میں یہ رقم اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق جنگ کے یہ اخراجات براہ راست عام امریکی شہری پر منتقل ہو رہے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال، انشورنس کے اخراجات میں اضافہ اور مجموعی طور پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اسی جنگ کا نتیجہ ہے۔

وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں جنگی ضروریات کے لیے مزید دو سو ارب ڈالر کا مطالبہ کیا ہے، جسے ماہرین نے ایک خوفناک قرار دیا ہے۔

اسٹیفنی سیول کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی رقم کا مطالبہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔ معاشی غیر یقینی کی وجہ سے کاروباری طبقہ بھی شدید پریشانی کا شکار ہے، جس سے امریکی معیشت کے طویل مدتی استحکام کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔