جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

ٹرمپ کی تقریر یا سوشل میڈیا پوسٹس کا مجموعہ؟ مبصرین نے خطاب کو تضادات کا شاہکار قرار دے دیا

02 اپریل, 2026 09:29

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس سے قوم کے نام خطاب، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف فوجی مہم کو منطقی انجام کے قریب قرار دیا، تاہم تجزیہ نگاروں نے اس تقریر کو پرانی باتوں کا مجموعہ اور تضادات کا شکار قرار دیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے قوم کے نام تضادات سے بھرپور بیس منٹ طویل خطاب کیا ہے، جسے ماہرین کی جانب سے ان کی گزشتہ بیانات اور سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹس کا ہی اعادہ قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی مشترکہ فوجی کارروائی کے بنیادی تزویراتی مقاصد تکمیل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ ایک ماہ سے جاری یہ جنگ مزید دو سے تین ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے۔ صدر نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر ایران کو سخت دھمکیاں دیتے ہوئے ملک کو بمباری کے ذریعے پتھر کے دور میں واپس بھیجنے کا عہد دہرایا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی عوام کو اس جنگ کی افادیت پر قائل کرنے کی کوشش کی، کیونکہ حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق ووٹرز کی ایک بڑی اکثریت اٹھائیس فروری سے شروع ہونے والی اس فوجی کارروائی کو ناپسند کر رہی ہے۔

صدر نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کو اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کے مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری کے طور پر دیکھیں، اور یہ بھی کہا کہ ماضی کی طویل جنگوں کے مقابلے میں یہ تنازعہ بہت مختصر ہے۔ تاہم، اس تقریر میں ان لوگوں کے لیے کوئی واضح جواب موجود نہیں تھا، جو اس جنگ کے اختتام یا امریکہ کی واپسی کا راستہ جاننا چاہتے تھے۔

اس تقریر میں کئی اہم سوالات کو نظر انداز کیا گیا، خصوصاً یہ کہ اسرائیل اب بھی ایران پر حملے کر رہا ہے اور خود بھی ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیں گے، ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان

یہاں تک کہ صدر کے خطاب سے چند گھنٹے قبل تل ابیب پر بھی حملہ ہوا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت صدر ٹرمپ کے دیئے گئے چند ہفتوں کے ٹائم فریم سے اتفاق کرتی ہے یا نہیں۔

اس کے علاوہ، وائٹ ہاؤس کی جانب سے چند روز قبل پیش کیے گئے پندرہ نکاتی امن منصوبے کا بھی ذکر غائب تھا، جس سے یہ ابہام پیدا ہوا ہے کہ آیا واشنگٹن نے اپنی شرائط سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے بھی صدر کا مؤقف متضاد نظر آیا۔ ایک طرف وہ ایران سے ٹینکرز گزارنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف اتحادیوں کو کہہ رہے ہیں کہ وہ خود جا کر آبنائے پر قبضہ کریں اور اس کی حفاظت کریں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ ختم ہونے پر یہ راستہ قدرتی طور پر کھل جائے گا، جو کہ تیل کی قیمتوں پر پریشان عالمی منڈیوں کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہے۔

سیاسی طور پر صدر ٹرمپ کو سخت چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمتیں چار ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر چکی ہیں اور وسط مدتی انتخابات سے محض چند ماہ قبل صدر کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے گر رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔