ہفتہ، 11-اپریل،2026
ہفتہ 1447/10/23هـ (11-04-2026م)

انٹرنیٹ بندش میں بھارت مسلسل ساتویں سال بھی دنیا بھر میں سرفہرست، عالمی رپورٹ جاری

02 اپریل, 2026 10:33

ایکسز ناؤ کی تازہ ترین رپورٹ نے بھارتی جمہوریت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت انتہا پسند نظریات اور اندرونی خلفشار کو چھپانے کے لیے انٹرنیٹ کی بندش کرنے والے بدترین ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

بھارت میں بڑھتے ہوئے انتہا پسند نظریات اور اندرونی خلفشار نے ملک کو عالمی سطح پر انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر لا کھڑا کیا ہے۔

عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ایکسز ناؤ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ نے بھارتی جمہوریت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت حقائق کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے اور عوام کی آواز کو دبانے کے لیے انٹرنیٹ کی معطلی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے، جو کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔

بھارتی جریدے دی انڈین ایکسپریس نے اس رپورٹ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ سال 2025 میں بھارت میں ریکارڈ 65 مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن کیا گیا، جو کسی بھی نام نہاد جمہوری ملک میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

رپورٹ میں ماضی کے اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بھارت میں انٹرنیٹ کی مکمل معطلی کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے، سال 2018 میں 134 اور 2019 میں 121 مرتبہ ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروسز کو مکمل طور پر معطل کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : مودی کی دوغلی پالیسی کا شاخسانہ، آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کے 18 بھارتی جہاز پھنس گئے

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی ریاست اب بھی عوام کی رائے اور معلومات کی فراہمی پر کنٹرول کو ترجیح دیتی ہے، جو عالمی جمہوری اقدار کے سراسر منافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت کی 12 ریاستوں اور مختلف علاقوں میں بار بار اندرونی خلفشار، تشدد اور نسلی تنازعات کی آڑ میں انٹرنیٹ بند کیا گیا۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ تلخ حقائق اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانے کے لیے بار بار انٹرنیٹ کی بندش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کے اندرونی حالات قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔

ماہرین نے خاص طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا کے انتہا پسند ایجنڈے کے تحت جاری ظلم و جبر پر پردہ ڈالنے کے لیے مودی حکومت ایسے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے تاکہ بین الاقوامی برادری تک اصل صورتحال نہ پہنچ سکے۔

ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت اب ایک ایسی ڈیجیٹل آمریت میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں معلومات تک رسائی کو قومی سلامتی کے نام پر قربان کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی یہ طویل اور بار بار کی بندش نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بلکہ اس سے بھارت کی معیشت اور عالمی ساکھ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

عالمی برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت انٹرنیٹ کو سیاسی کنٹرول کے لیے استعمال کرنا بند کرے اور آزادیِ اظہارِ رائے کے عالمی چارٹر کی پاسداری کرے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔