ایران میں زیر تعمیر بڑے پل پر امریکی و اسرائیلی بمباری، پکنک مناتے آٹھ شہری شہید

تہران کے مضافات میں کرج کے مقام پر بی ون پل پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں آٹھ افراد شہید اور پچانوے زخمی ہو گئے ہیں۔
تہران سے چالیس کلومیٹر دور مغرب میں واقع بی ون پل پر ہونے والا فضائی حملہ ایک بڑے انسانی المیے میں بدل گیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس حملے میں بیلقان گاؤں کے مکین، راہگیر اور وہ خاندان نشانہ بنے، جو نوروز کی تعطیلات کے آخری دن یعنی نیچر ڈے پر دریا کے قریب پکنک منانے آئے تھے۔
البرز صوبے کے سیکورٹی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ایک زیر تعمیر اہم مواصلاتی منصوبہ تھا، جسے امریکی اور صہیونی افواج نے نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں اب تک آٹھ افراد کے شہید ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 95 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کا انجام کیا ہوگا؟ براہِ راست شامل نہ ہونے کے باوجود معاشی قیمت چکا رہے ہیں، آسٹریلوی وزیراعظم
ایران نے اس کارروائی کو ڈبل ٹیپ حملہ قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردی کی بدترین قسم قرار دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق پہلا حملہ ہونے کے بعد جب امدادی کارکن اور مقامی لوگ ملبے سے زخمیوں کو نکالنے کے لیے پہنچے تو اسی جگہ پر دوسرا حملہ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے جانی نقصان میں کئی گنا اضافہ ہوا۔
ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بزدلانہ کارروائی ایرانی عوام کو ڈرانے اور ٹرمپ کے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام نے اس حملے کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس پل کو ایرانی فوج ڈرون تیار کرنے والے سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کر رہی تھی، جسے روکنا ضروری تھا۔ ایران نے اس امریکی دعوے کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









