بھارت میں اقلیتوں کے حقوق پر شب خون، مسلم اکثریتی علاقوں کو ہندو حلقوں میں ضم کر دیا گیا

قطری میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی ریاست آسام میں نئی انتخابی حد بندیوں کے ذریعے مسلم سیاسی اثر و رسوخ کو دانستہ طور پر ختم کیا جا رہا ہے، اقلیتوں کو سیاسی میدان سے باہر دھکیلنے کی منظم سازش کی گئی ہے۔
بھارتی ریاست آسام میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے سیاسی حقوق کو کچلنے کے لیے کی جانے والی نئی حلقہ بندیوں نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقتدر حلقوں نے مسلمانوں کی ووٹنگ پاور کو کم کرنے کے لیے کریکنگ اور پیکنگ (یعنی مسلم ووٹوں کو بکھیرنے یا انہیں مخصوص حلقوں تک محدود کرنے) کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
اس سازش کے تحت مسلم اکثریتی علاقوں کو توڑ کر انہیں زبردستی ہندو اکثریتی حلقوں میں ضم کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی مسلم نمائندے کا منتخب ہونا ناممکن بنا دیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق کٹی گورا، ہیلا کانڈی اور کٹلی چیرا جیسے اہم حلقوں میں، جہاں مسلمانوں کا سیاسی غلبہ تھا، اب صورتحال مکمل طور پر بدل دی گئی ہے۔ نئی حد بندیوں کے نتیجے میں مسلم اثر و رسوخ والی نشستوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں ایندھن کا بدترین بحران، ممبئی سے راجستھان تک زندگی مفلوج، ایل پی جی سلنڈر کی قلت
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدامات بی جے پی کے ہندو ووٹ بینک کو مضبوط بنانے اور اقلیتوں کو سیاسی طور پر بے بس کرنے کے مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں ہندو اکثریتی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی بارش کی جا رہی ہے، وہیں مسلم علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اس امتیازی سلوک اور سیاسی حقوق پر شب خون مارنے کے خلاف مقامی عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، جو کسی بھی وقت بڑے عوامی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
آسام کے مسلمان اب خود کو اپنے ہی وطن میں سیاسی طور پر لاوارث محسوس کرنے لگے ہیں، جو بھارتی جمہوریت کے دعوؤں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









