جمعہ، 10-اپریل،2026
جمعہ 1447/10/22هـ (10-04-2026م)

ایران کے خلاف امریکی جارحیت، اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت سوز مظالم کی داستان

05 اپریل, 2026 13:22

ایران پر امریکی حملے کے پسِ پردہ محض معاشی مفادات یا پیٹرول کی قیمتوں کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا انسانی المیہ ہے جس نے عالمی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔

جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے اس جنگ کو امریکی سیاست کے اخلاقی دیوالیہ پن کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے معصوم بچوں کے قتلِ عام اور شہری تنصیبات پر حملوں کے ہولناک حقائق بے نقاب کر دیئے ہیں۔

ایران کے خلاف جاری امریکی مہم محض ایک فوجی تنازع نہیں بلکہ انصاف اور انسانیت کے اصولوں کے خلاف ایک کھلی جنگ بن چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سیاسی منظر نامے میں اس جنگ کی مخالفت محض سطحی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، جہاں ڈیموکریٹس اسے ٹرمپ کی نااہلی اور ریپبلکن اسے خزانے پر بوجھ قرار دے رہے ہیں، لیکن اس بحث میں کہیں اخلاقی چھان بین شامل نہیں ہے۔

یہ بے حسی ثابت کرتی ہے کہ طاقت کے نشے میں چور فیصلہ سازوں کے پاس کسی بھی تنازع کو پرکھنے کے لیے کوئی منظم اخلاقی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

اس جنگ کے لیے سب سے بڑا جواز ایران کے ایٹمی پروگرام کو بنایا گیا، جسے عالمی ماہرین نے ایک سفید جھوٹ قرار دیا۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کی رپورٹس کے مطابق ایران میں جوہری ہتھیار بنانے کے کسی منظم پروگرام کے ثبوت نہیں ملے، کیونکہ ایران ساٹھ فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا ہے جبکہ بم کے لیے نوے فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا کامیاب ریسکیو مشن کا دعویٰ جھوٹا ثابت، ایران نے تباہ شدہ امریکی طیارے کی تصاویر جاری کر دیں

ستم ظریفی یہ ہے کہ اسرائیل، جو خود ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہے اور اپنی تنصیبات کے معائنے سے انکاری ہے، وہ ایران پر الزامات لگا رہا ہے، جو عالمی سطح پر منافقت کی بدترین مثال ہے۔

مزید برآں، سفارت کاری کے نام پر دھوکا دہی کی انتہا یہ ہے کہ جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک تاریخی امن معاہدے کے قریب تھے، تو صدر ٹرمپ نے محض پانچ سے آٹھ دنوں کے اندر الٹی میٹم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کر دیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن کا مقصد کبھی امن تھا ہی نہیں۔

انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے آنے والی رپورٹیں روح فرسا ہیں۔ میناب میں شجرہ طیبہ نامی پرائمری اسکول پر ٹوماہاک میزائلوں سے حملہ کیا گیا، جس میں ایک سو پچھہتر معصوم بچیاں اور شہری شہید ہو گئے۔

اس حملے میں ڈبل ٹیپ تکنیک کا استعمال کیا گیا، یعنی جب امدادی ٹیمیں ملبے سے بچیوں کو نکالنے پہنچیں تو دوسرا میزائل داغ دیا گیا۔

سیٹلائٹ تصاویر سے ثابت ہے کہ یہ اسکول کسی بھی فوجی اڈے سے کوسوں دور تھا۔ اسی طرح سات مارچ کو تیل کی تنصیبات پر حملوں سے تہران میں تیل کی بارش ہوئی، جس نے لاکھوں انسانوں کو کینسر اور سانس کی بیماریوں کے خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اخلاقی پستی کا عالم یہ ہے کہ سیاسی مخالفین کے خاندانوں، بشمول چودہ ماہ کی بچیوں اور خواتین کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو عالمی جنگی اخلاقیات کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔

Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔