مودی کی اسرائیل پالیسی کے پیچھے جیفری ایپسٹین کا ہاتھ نکلا، امریکی تحقیقات میں انکشاف

امریکی محکمۂ انصاف اور نیویارک ٹائمز کی تحقیقات نے بھارت کی اسرائیل پالیسی کے پیچھے ایک خطرناک اور کرپٹ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے تانے بانے سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین اور انیل امبانی سے ملتے ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف کی حالیہ تحقیقات اور معتبر جریدے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل نواز پالیسی کے حوالے سے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کا اسرائیل کی جانب جھکاؤ کوئی اتفاقی سفارتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک خفیہ اور کرپٹ نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کا نتیجہ تھا۔
اس نیٹ ورک کی قیادت سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کر رہا تھا، جس نے بھارت کو مشورہ دیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اسرائیل سے دو ارب ڈالر کے اسلحہ اور انٹیلی جنس آلات کی خریداری کرے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کی دوغلی پالیسی کا شاخسانہ، آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کے 18 بھارتی جہاز پھنس گئے
ایپسٹین خود کو وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے طور پر پیش کرتا رہا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ میں ہونے والی تقرریوں کی خفیہ معلومات بھی پہلے سے فراہم کرتا رہا۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بھارتی ارب پتی انیل امبانی نے اسی نیٹ ورک کے ذریعے امریکی اثر و رسوخ والے حلقوں تک رسائی حاصل کی۔ ایپسٹین نے انیل امبانی کو اسٹیو بینن، ٹام بیرک اور جیرڈ کشنر جیسے طاقتور افراد سے ملوایا۔
یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ 23 مئی 2019 کو، جب بھارت میں عام انتخابات کے نتائج آ رہے تھے، انیل امبانی نے ایپسٹین کے مین ہٹن والے گھر کا دورہ کیا۔
اس ملاقات کے چند ہفتوں بعد ایپسٹین کو جنسی اسمگلنگ کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ انیل امبانی کی دولت جو 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر پونے دو ارب ڈالر رہ گئی تھی، اس پر بھی ایپسٹین انہیں مالی مشورے دیتا رہا۔
2016 کا رافیل طیارہ معاہدہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس میں امبانی گروپ کو نوازا گیا۔ مارچ 2026 میں ان پیغامات کے منظر عام پر آنے کے بعد اب امبانی کے اثاثوں کے منجمد کیے جانے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









