ٹرمپ سے قبل کن تین امریکی صدور نے آخری وارننگ پر عمل کیا؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دی گئی چھ اپریل کی آخری وارننگ نے عالمی سیاست میں الٹی میٹم کی اس قدیم روایت کو تازہ کر دیا ہے، جس پر ماضی میں تین مختلف امریکی صدور عمل درآمد کر کے دنیا کا نقشہ بدل چکے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی آخری مہلت کی یاد دہانی کرائی ہے۔
اس وارننگ کے مطابق 6 اپریل 2026 تک مطالبات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں تہران پر جہنم کے دروازے کھل جائیں گے۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان چھٹے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ کے دوران یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ تصادم طویل ہو سکتا ہے۔
تاہم، عالمی تعلقات کی تاریخ میں اس طرح کی آخری وارننگ یا الٹی میٹم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا آزمودہ طریقہ ہے، جس کے تحت ایک ملک مخصوص شرائط رکھتا ہے اور وقت مقررہ گزرنے پر فوجی کارروائی کا آپشن استعمال کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کیخلاف ٹرمپ کی دھمکیاں، واشنگٹن میں شدید سیاسی ردعمل، بیان پاگل پن قرار
ماضی میں ٹرمپ سے قبل تین امریکی صدور یہ راستہ اپنا چکے ہیں۔ سب سے پہلے جارج بش سینیئر نے دوسری خلیجی جنگ سے قبل عراقی صدر صدام حسین کو کویت سے انخلاء کے لیے 15 جنوری 1991 کی مہلت دی تھی۔
مدت ختم ہونے کے محض دو دن بعد آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم کا آغاز کر دیا گیا۔ اس کے بعد نائن الیون حملوں کے بعد جارج ڈبلیو بش نے افغانستان میں طالبان کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے مہلت دی، جسے مسترد کرنے پر اکتوبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا گیا۔
جارج ڈبلیو بش نے ہی 2003 میں صدام حسین اور ان کے بیٹوں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے دیئے، اور انکار پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کے بہانے عراق پر چڑھائی کر دی۔
اس سے قبل 1962 میں جان ایف کینیڈی نے بھی سوویت یونین کو کیوبا سے میزائل ہٹانے کی آخری وارننگ دی تھی، تاہم وہ معاملہ سفارتی سطح پر حل ہو گیا تھا۔
اب پوری دنیا کی نظریں اس پر لگی ہیں، کیونکہ اسرائیلی حکام واشنگٹن سے ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے لیے ہری جھنڈی ملنے کے منتظر ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









