بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈہ، بھارت میں انتخابی مہم کیلئے پاکستان مخالف جذبات کا استعمال

آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما اور مودی حکومت نے انتخابی مہم میں عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا تیز کر دیا ہے۔
بھارت میں جیسے جیسے مختلف ریاستوں کے انتخابات قریب آ رہے ہیں، بی جے پی کی قیادت نے اپنے روایتی ہتھکنڈوں یعنی پاکستان مخالف جذبات ابھارنے اور مسلمانوں کے خلاف تعصب پھیلانے کی مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے۔
شکست کے خوف سے دوچار آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اپنی اندرونی سیاست کی ناکامیوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
بھارتی جریدے دی اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ہمنت بسوا سرما نے ایک انتہائی مضحکہ خیز اور جھوٹا الزام لگایا ہے کہ ان کی اہلیہ کے پاسپورٹ سے متعلق تنازع میں بھی پاکستان کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے یہ گمراہ کن دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان آسام کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس سلسلے میں بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کی مدد کر رہا ہے۔
دوسری جانب، انتہا پسندی کے فلسفے پر کاربند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی عوامی جذبات کو اشتعال دلانے کے لیے کانگریس کو پاکستان کے ایجنڈے پر کام کرنے والی پارٹی قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اگر ایران سے معاہدہ ممکن نظر آیا تو صدر ٹرمپ حملہ مؤخر کر سکتے ہیں، امریکی رپورٹ
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں جب بھی بی جے پی کی مقبولیت میں کمی آتی ہے یا انتخابات سر پر ہوتے ہیں، تو پاکستان پر جھوٹے الزامات، فالس فلیگ آپریشنز اور مسلمانوں کے خلاف زہریلی مہمات چلانا بی جے پی کا پرانا وطیرہ بن جاتا ہے۔
ماہرینِ سیاسیات کے مطابق، آسام کے وزیراعلیٰ کے بیانات دراصل اپنی غیر مقبولیت سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق، بی جے پی کی حکومت بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی بدحالی اور انتظامی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کارڈ کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
پاکستان کے خلاف اس قسم کے مضحکہ خیز الزامات نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہیں بلکہ یہ بھارتی جمہوریت کے گرتے ہوئے معیار کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
بھارت کی موجودہ حکمران جماعت مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ہوا دے کر ہندو انتہا پسند ووٹ بینک کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے خطے کے امن و امان کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











