سابق اسرائیلی فوجی سربراہ کی نیتن یاہو پر کڑی تنقید، ایران کی مضبوطی اور اسرائیل کی ناکامی کا اعتراف

سابق اسرائیلی نائب چیف آف اسٹاف نے نیتن یاہو پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حالیہ جنگ کو اسرائیل کی تاریخ کی بدترین تزویراتی ناکامی قرار دے دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے سابق نائب چیف آف اسٹاف یائر گولان نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا قرار دیا ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے عوام سے تاریخی فتح اور نسلوں کی حفاظت کے جو وعدے کیے تھے، وہ عملی طور پر اسرائیل کی تاریخ کی سب سے سنگین تزویراتی ناکامی میں بدل چکے ہیں۔
یائر گولان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں بے تحاشہ خون بہایا گیا، عام شہری مارے گئے اور بہادر فوجی کام آئے، جبکہ پورا ملک پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہوا، لیکن اس سب کے باوجود حکومت نے ان قربانیوں کو فتح میں بدلنے کے بجائے ضائع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : جان ایف کینیڈی کا قتل اور اسرائیل کا ایٹم بم، کس طرح پنسلوانیا سے ایٹمی مواد تل ابیب پہنچا؟
سابق اسرائیلی فوجی عہدیدار نے نیتن یاہو، سموٹریچ اور بین گویر کی حکومت کو ہدف بناتے ہوئے کہا کہ جنگ کے کوئی بھی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نہ تو جوہری پروگرام تباہ ہوا اور نہ ہی بیلسٹک میزائلوں کا خطرہ ختم ہوا، بلکہ اس کے برعکس ایرانی حکومت اس جنگ سے پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو کر ابھری ہے۔
یائر گولان کے مطابق ایران کے پاس اب افزودہ شدہ یورینیم موجود ہے، وہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہا ہے اور دنیا کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل غزہ کی طرح ایک بار پھر مذاکراتی میز سے غائب ہے اور اس کا کوئی اثر و رسوخ باقی نہیں رہا۔
یائر گولان نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج میدان جنگ میں اپنی طاقت سے نتائج حاصل کرتی ہے، لیکن ایک نااہل، انتہا پسند اور خطرناک حکومت ان فوجی کامیابیوں کو قومی سلامتی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
انہوں نے اس صورتحال کو مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں آنے والے کئی سالوں تک اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈال چکی ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









