نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی برقرار؛ جنگ بندی کے باوجود ایران کے خلاف جنگ کا عندیہ

ایران جنگ پر اسرائیلی قیادت میں اختلافات، نیتن یاہو اور موساد سربراہ آمنے سامنے
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کے لیے تیار ہے، چاہے جنگ بندی ہی کیوں نہ ہو چکی ہو۔
ایک ٹی وی خطاب میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اپنے تمام اہداف ہر صورت حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہداف معاہدے کے ذریعے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو جنگ کا راستہ بھی اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہر وقت لڑائی کے لیے تیار ہے اور "ہماری انگلی ٹریگر پر ہے”۔ ان کے مطابق دو ہفتوں کی جنگ بندی کسی مہم کا اختتام نہیں بلکہ اگلے مرحلے کی تیاری ہے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران نے کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کی ہیں، لیکن وہ پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے کچھ اہم اہداف ابھی باقی ہیں اور انہیں ہر حال میں حاصل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ مکمل رابطے میں طے پائی۔ ان کے مطابق اسرائیل کو اس پیش رفت پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔
نیتن یاہو نے یہ بھی واضح کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں حزب اللہ شامل نہیں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائی میں اسرائیلی فوج نے صرف 10 منٹ میں 100 اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی 2024 کے بعد حزب اللہ کے خلاف سب سے بڑی کارروائی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے لبنان، شام اور غزہ میں اپنی سرحدوں سے باہر بھی سکیورٹی زون قائم کر لیے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور حماس کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










