وائٹ ہاؤس نے ایران سے مذاکرات میں پیش کردہ شرائط کی تفصیلات جاری کردیں

وائٹ ہاؤس نے ان سخت شرائط کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جنہیں ایران نے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ امریکہ نے ان شرائط کو ناقابلِ گفت و شنید قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ان سرخ لکیروں کی تفصیلات فراہم کی ہیں، جن پر ایران نے پاکستان میں ہونے والے طویل مذاکرات کے دوران اتفاق نہیں کیا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ وہ شرائط ہیں، جن پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان شرائط میں یورینیم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ، ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنا، زیرِ زمین چھپایا گیا چار سو کلو گرام سے زائد اعلیٰ افزودہ یورینیم واپس کرنا اور خطے میں امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک نئے امن فریم ورک کو قبول کرنا شامل ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران حماس، حزب اللہ اور حوثیوں جیسی تنظیموں کی مالی معاونت بند کرے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دے۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد مذاکرات؛ وہ تین بڑے تنازعات جن کے باعث امریکہ ایران معاہدہ نہ ہو سکا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے روانگی کے وقت کہا کہ انہوں نے ایران کے سامنے اپنی بہترین اور آخری پیشکش رکھ دی ہے اور اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں۔
اگرچہ مذاکرات کے دوران بعض لمحات میں دونوں اطراف نے ایک دوسرے کے لیے احترام کا اظہار کیا، لیکن بنیادی مطالبات پر اتفاق نہ ہو سکا۔
صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ہفتوں کی جنگ کے بعد ایران اب کافی کمزور ہو چکا ہے اور اسے یہ شرائط مان لینی چاہئیں۔
دوسری جانب ایران کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اسے امریکہ کے خلاف ایک مضبوط پوزیشن دیتا ہے۔ امریکہ نے اب دباؤ بڑھانے کے لیے بحری ناکہ بندی کا حربہ بھی استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









