اسلام آباد معاہدہ صرف چند انچ کے فاصلے پر تھا، مگر امریکہ مکر گیا، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیرِ خارجہ نے پاکستان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی حد سے زیادہ مطالبات کی پالیسی نے طے شدہ معاہدے کو سبوتاژ کر دیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے بعد اپنے پہلے سرکاری ردِعمل میں امریکہ پر کڑی تنقید کی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں انہوں نے ان مذاکرات کو گزشتہ سینتالیس سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سب سے طویل اور شدید ترین مذاکرات قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد مذاکرات؛ وہ تین بڑے تنازعات جن کے باعث امریکہ ایران معاہدہ نہ ہو سکا
انہوں نے بتایا کہ ایران نے ان مذاکرات میں مکمل خلوصِ نیت کے ساتھ شرکت کی تھی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ کیا جا سکے اور دونوں فریقین ایک یاداشتِ مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے۔
عباس عراقچی کے مطابق جب معاہدہ طے پانے میں محض چند انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا، تو امریکی وفد نے اچانک اپنے مطالبات میں اضافہ کر دیا اور پہلے سے طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹ گئے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی حالیہ دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
وزیرِ خارجہ نے اپنے پیغام کے آخر میں ایک اہم اصول کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہے اور دشمنی کا بدلہ دشمنی۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









