منگل، 17-فروری،2026
منگل 1447/08/29هـ (17-02-2026م)

ثاقب نثار نے جتنے سوموٹو لیے سب پر سوالیہ نشان بنتا ہے ، شرجیل میمن

25 اپریل, 2023 15:10

کراچی : شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ثاقب نثار نے جتنے سوموٹو لیے سب پر سوالیہ نشان بنتا ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ پردہ ہٹنے سے ہر چیز پر شک و شبہات پیدا ہورہے ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر نئی لیکس اور باتیں سامنے آرہی ہیں،سوال اٹھ رہے ہیں کہ کس طرح فیصلے ہورہے ہیں ؟

شرجیل میمن نے کہا کہ عمران خان نے انٹرویو میں خطرناک انکشافات کیے ، اگست سے پہلے عمران خان جنرل باجوہ کیخلاف سازش کرچکے تھے ، اگست میں ایوان صدر میں ملاقات ہوئی ، کیا ایوان صدر سازشوں کا گڑھ تھا اور ہے ؟ ایوان صدر کا کیا کام کہ سابق وزیراعظم کی آرمی چیف سے ملاقات کرارہاہے؟ ملاقات کرانی تھی تو چھپ کر کیوں کرائی گئی ؟

پی پی رہنما نے مزید کہا کہ الزام لگایا گیا کہ جنرل باجوہ نے کہا کہ کے پی ، پنجاب کی اسمبلیاں توڑ دو، ایک شخص مسلسل کہہ رہا ہے کہ جنرل باجوہ نے حکومت گرائی ، وہی شخص جنرل باجوہ کے مشورےپر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کررہا ہے، جنرل باجوہ عمران خان سے کیوں ملے ؟ سوالیہ نشان بنتا ہے ۔

انھوں نےمزید کہا کہ کیا سپریم کورٹ غیر آئینی سازش پر الیکشن کا کہہ سکتی ہے ؟غیر آئینی طریقے پر اسمبلیاں ٹوٹنے کی قانونی حیثیت رہتی ہے یا نہیں؟جج کسی کو کیسے کوئی پٹیشن پڑھنے یا ایکشن کا کہہ سکتا ہے ؟جو ثاقب نثار نے کیا ججز کا حلف نامہ اس کی اجازت دیتا تھا؟مخصوص بینچز سے مرضی کے فیصلے لینا عوام کو قابل قبول ہوسکتا ہے ؟

شرجیل میمن نے کہا کہ غیر آئینی ، غیر قانونی طو رپر عمران خان کی مدد کی جارہی ہے ،عمران خان کی مدد کرنے والے غیر آئینی کام کررہے ہیں ، عمران خان کی مدد کرنے والے ڈکٹیٹر بننا چاہتے ہیں ،گزشتہ7سے8سالوں میں جوڈیشری کا کردار متنازع رہا۔

شرجیل میمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضی وہاب نےکہا کہ ضمیر نہیں آئین و قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہئیں، پاکستان میں متنازع 63اے کے فیصلے پر زیادہ بات ہونی چاہیے ، آئین اور فیصلے میں جو لکھا اس میں تضادہے ، قانون بنانا، آئین سازی کرنا پارلیمان کا کام ہے ۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ دنیا بھر میں قانون، آئین سازی کا اختیار پارلیمان کے پاس ہوتا ہے ، کچھ فیصلوں کے ذریعے آئین میں لکھے گئے الفاظ کو تبدیل کردیا جاتا ہے ، وزیراعظم کو آئین میں ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے ۔

سپریم کورٹ کوئی ایک فرد نہیں تمام جج صاحبان ہیں، مرتضیٰ وہاب کامزید کہنا تھا کہ آئین کہتا ہے کہ سپریم کورٹ سوموٹو لے سکتا ہے ، آئین کہتا ہے سپریم کورٹ کوئی فرد نہیں ، سوموٹو کا اختیار سپریم کورٹ کا ہے ، پارلیمان قانون بناتا ہے لیکن اس پر عملداری کو روک دیا جاتا ہے،فیصلے کی ضرورت ہے کہ قانون سازی کہاں ہوگی؟

انھوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھی کردیا جائے کہ تمام فیصلے چیف جسٹس کرے گا، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ کسی عہدے پر تعینات کرے تو عدالت سوال کرتی ہے، کیا عدالتوں کا احتساب نہیں ہونا چاہیے،8جج صاحبان نے 11ججز کے فیصلے کو سائیڈ میں رکھ دیا،بھٹو کیس میں 4ججز کا احتساب نہیں ہونا چاہیے۔

پی پی رہنما نے کہا کہ اگرہمارا احتساب ہوتا ہےتو کیا ججز کا احتساب نہیں ہونا چاہیے،کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے کا کہتے ہیں اسلام آباد میں بلڈنگ بچالیتے ہیں،کہیں نہ کہیں احتساب کےعمل کا فقدان ہے ،ایک صاحب ایک کیس میں کہتے ہیں نااہل،اسی میں کہتے ہیں صادق و امین ۔

یہ پڑھیں ” عمران خان ملکی سالمیت کی پرواہ کئے بغیر اقتدار چاہتا ہے: شرجیل میمن

Catch all the بریکنگ نیوز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔