ایران۔امریکہ مذاکرات کے مثبت اشارے، تیل کی قیمت میں بہتری، عالمی منڈی میں احتیاط برقرار

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں منگل کو تقریباً دو فیصد کمی کے بعد بدھ کے روز ایشیائی تجارت کے دوران استحکام دیکھا گیا۔
سرمایہ کاروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کا جائزہ لیا، تاہم کسی حتمی معاہدے کے امکانات کے بارے میں محتاط رویہ برقرار رکھا۔
منڈیوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو تیل کی عالمی رسد سے متعلق خدشات میں کمی آسکتی ہے، لیکن ابھی تک صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں۔
آج برینٹ خام تیل کے سودوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور قیمت تقریباً سڑسٹھ ڈالر پینسٹھ سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی، جب کہ امریکی خام تیل کی قسم ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت باسٹھ ڈالر باون سینٹ کے قریب رہی۔
دونوں اقسام گزشتہ دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے آس پاس گردش کر رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منڈی ابھی تک دباؤ سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان منگل کو ہونے والے مذاکرات میں بعض بنیادی رہنما اصولوں پر اتفاق رائے کی خبر سامنے آئی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اگرچہ کچھ اہم نکات پر سمجھ بوجھ پیدا ہوئی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی معاہدہ فوری طور پر طے پا جائے گا۔ ان کے بیان سے یہ عندیہ ملا کہ جوہری تنازع کے حل کی راہ ابھی طویل اور پیچیدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موساد کی ایران میں رسائی پر بیجنگ کی تشویش، چین نے تہران میں حفاظتی حصار مضبوط کر دیا
منڈی کے تجزیہ کاروں نے بھی محتاط انداز اپنایا ہے۔ نئی دہلی میں قائم تحقیقاتی ادارے ایس ایس ویلتھ اسٹریٹ کی بانی سگندھا سچدیوا کے مطابق تیل کی قیمتوں میں تکنیکی بنیادوں پر کچھ بحالی ممکن ہے، لیکن مکمل معاہدہ ابھی دور دکھائی دیتا ہے اور سفارتی پیش رفت کی پائیداری کے بارے میں شکوک موجود ہیں۔
ایک اور سیاسی مشاورتی ادارے یوریشیا گروپ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا خطرہ اپریل کے اختتام تک بھی موجود رہ سکتا ہے، جس سے منڈی میں غیر یقینی کی فضا برقرار ہے۔
تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے والا ایک اور عنصر قازقستان کے تنگیز آئل فیلڈ سے متعلق خبریں ہیں۔ روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوری میں تعطل کے بعد اس بڑے تیل کے میدان میں پیداوار دوبارہ بڑھ رہی ہے اور توقع ہے کہ تیئیس فروری تک مکمل استعداد حاصل کر لی جائے گی۔ چونکہ تنگیز دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس کی پیداوار میں اضافہ عالمی رسد کو سہارا دے سکتا ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں امریکہ میں تیل کے ہفتہ وار ذخائر کی رپورٹس پر بھی مرکوز ہیں۔ پہلے مرحلے میں امریکی پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ متوقع ہے، جبکہ اس کے بعد امریکی محکمہ توانائی کے شماریاتی ادارے کی رپورٹ سامنے آئے گی۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً تئیس لاکھ بیرل اضافہ ہوا ہو سکتا ہے، جبکہ پیٹرول اور دیگر ریفائن شدہ مصنوعات کے ذخائر میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگر ذخائر میں اضافہ توقع سے زیادہ ہوا تو قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔
دوسری جانب یوکرین اور روس کے نمائندوں کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں امن مذاکرات کا پہلا مرحلہ جنیوا میں مکمل ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیف کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ چار سالہ تنازع کے خاتمے کے لیے تیزی سے پیش رفت کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس جغرافیائی سیاسی محور میں کوئی بڑی تبدیلی آتی ہے تو اس کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے اور منڈی میں خطرے کا اضافی عنصر شامل ہو سکتا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











