جمعہ، 20-فروری،2026
جمعہ 1447/09/03هـ (20-02-2026م)

مودی کی ناقص سفارتی حکمت عملی، بھارت مہنگی درآمدات کے بوجھ تلے دب گیا

19 فروری, 2026 15:35

بھارت کی توانائی پالیسی ایک بار پھر عالمی سیاست کے دباؤ کے زیرِ اثر دکھائی دے رہی ہے، جہاں مہنگا تیل خریدنے کا فیصلہ معاشی منطق سے زیادہ سفارتی اشاروں کا عکاس محسوس ہوتا ہے۔

بھارتی ماہرِ امورِ خارجہ ڈاکٹر برہما چیلانی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر روسی تیل کی خریداری روکنے اور اس کے بجائے امریکی خام تیل لینے کے لیے جو دباؤ ڈالا ہے، وہ کوئی نیا حربہ نہیں۔ ان کے بقول ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں بھی ایسا ہی دباؤ کامیابی سے استعمال کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں بھارت نے ہمسایہ ملک ایران سے تیل کی درآمدات مکمل طور پر صفر کر دی تھیں، حالانکہ تہران طویل عرصے سے رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کر رہا تھا۔ اس فیصلے کے بعد امریکہ بھارت کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم فراہم کنندہ بن کر ابھرا۔

یوکرین جنگ کے بعد روس نے رعایتی قیمتوں پر تیل کی پیشکش شروع کر دی۔ اب ایک مرتبہ پھر وہی منظرنامہ ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ نئی دہلی پر تازہ دباؤ کے بعد بھارت امریکی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ سستے روسی خام تیل سے بتدریج دوری اختیار کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی انتہاپسندی کا سیاہ باب، سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے اس پالیسی کو درآمدات میں تنوع کا نام دیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بحری نقل و حمل کے اخراجات شامل کرنے کے بعد امریکی تیل مشرقِ وسطیٰ کے متبادل ذرائع سے بھی زیادہ مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتِ حال سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ خریداری معاشی ضرورت کے بجائے سیاسی پیغام رسانی کا حصہ ہے۔

اس حکمتِ عملی کے اسٹریٹجک نتائج ماضی میں بھی سامنے آ چکے ہیں۔ جب بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری بند کی تو چین تقریباً واحد خریدار بن گیا اور اسے عالمی منڈی کے سب سے سستے خام تیل تک رسائی حاصل ہو گئی، جو برینٹ معیار کے مقابلے میں نمایاں رعایت پر فروخت ہو رہا تھا۔ اس سے بیجنگ کی توانائی سلامتی مزید مستحکم ہوئی جبکہ بھارت کو نسبتاً مہنگے ذرائع پر انحصار کرنا پڑا۔

آج جب بھارت روسی تیل کی درآمدات میں کمی کر رہا ہے تو چین ایک بار پھر اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور رعایتی نرخوں پر دستیاب اضافی روسی تیل تیزی سے خرید رہا ہے۔ یوں بظاہر نئی دہلی کی پالیسی غیر ارادی طور پر چین کی معاشی طاقت کو تقویت دے رہی ہے جبکہ خود بھارت اپنی مسابقتی برتری کو کمزور کر رہا ہے۔

یہ خاموشی حیران کن ہے کہ بھارت اس ممکنہ تزویراتی نقصان پر کھل کر بحث نہیں کر رہا۔ ایک طرف وہ زیادہ قیمت ادا کر رہا ہے اور دوسری طرف چین کم قیمت پر توانائی کے وسائل حاصل کر کے اپنی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔