ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)
تازہ ترین خبریں

پاکستان میں بجلی کی آزاد خرید و فروخت کا تاریخی نظام نافذ کرنے کا فیصلہ

24 فروری, 2026 12:34

پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے عالمی مالیاتی فنڈ کی ایک اور اہم شرط کو پورا کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں پہلی بار بجلی کی ڈی ریگولیٹڈ مارکیٹ فعال ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس نئی آزاد مارکیٹ میں بجلی کی فروخت کا عمل رواں برس مارچ میں شروع ہونے کا قومی امکان ہے، جس سے بجلی کی روایتی قیمتوں اور فروخت کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔

ابتدائی طور پر اس منصوبے کے تحت دو سو میگاواٹ بجلی نیلامی کے لیے پیش کی جائے گی جو خاص طور پر بی تھری اور بی فور کیٹیگری کی صنعتوں کے لیے دستیاب ہوگی۔

اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس مارکیٹ کے ذریعے خریدی جانے والی بجلی پر صارفین کو بھاری کپیسٹی چارجز ادا نہیں کرنے پڑیں گے، جس سے صنعتی پیداواری لاگت میں بڑی کمی واقع ہوگی۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی اس آزادانہ خرید و فروخت کے لیے ضروری ڈھانچہ یعنی مارکیٹ آپریٹر پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں اور شروع میں ایک میگاواٹ یا اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے بڑے صارفین کو اس نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کا فیصلہ کر لیا

حکومت کا ہدف ہے کہ اگلے چار سالوں کے دوران اس مارکیٹ میں دستیاب بجلی کی مقدار کو بتدریج بڑھا کر آٹھ سو میگاواٹ تک لے جایا جائے۔

اس نئے نظام کے تحت بڑے صنعتی صارفین صرف بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے انسٹالیشن چارجز ادا کریں گے جبکہ گرڈ اسٹیشنز اور تاروں کے استعمال کے بدلے ویلنگ چارجز ادا کیے جائیں گے۔ بی تھری صارفین کے لیے یہ چارجز چھ روپے اور بی فور صارفین کے لیے نو روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

اس کھلی مارکیٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو بجلی گھر یا سپلائر سب سے سستی بجلی فراہم کرے گا، صارفین براہ راست اسی سے بجلی خریدنے کے مجاز ہوں گے جس سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھے گی اور عام صنعت کار کو سستی توانائی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔