اپنا گھر بنانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی

Big good news has arrived for people who want to build their own home
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کم لاگت ہاؤسنگ اسکیم میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے سے متوسط اور کم آمدن والے افراد کو گھر خریدنے میں آسانی ملے گی۔ اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے پیش کی گئی سمری منظور کر لی گئی۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی چھت فراہم کرنا ہے۔
منظور شدہ فیصلوں کے تحت ہاؤسنگ قرض کی حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے یہ حد کم تھی۔ اب گھر خریدنے والے زیادہ رقم تک قرض حاصل کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہی سود کی شرح بھی کم کر دی گئی ہے۔ پہلے مختلف کیٹیگریز میں شرح سود 8 فیصد تک تھی۔ اب تمام مستفید ہونے والوں کے لیے یکساں طور پر 5 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پہلے سے حاصل کیے گئے قرضوں پر بھی نئی شرح لاگو ہوگی۔ یعنی جو افراد پہلے 8 فیصد یا اس سے کم شرح پر قرض لے چکے تھے، ان کی اقساط اب 5 فیصد شرح کے مطابق دوبارہ ترتیب دی جائیں گی۔ اس فیصلے سے قرض لینے والوں پر مالی دباؤ کم ہوگا اور اقساط ادا کرنا آسان ہو جائے گا۔
وزارت ہاؤسنگ کے اعداد و شمار کے مطابق اسکیم کے تحت اب تک دس ہزار سے زائد افراد درخواستیں جمع کروا چکے ہیں۔ ان درخواستوں کی مجموعی مالیت 32 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ اب تک چند سو درخواستیں منظور کی جا چکی ہیں۔ منظور شدہ درخواستوں پر 80 کروڑ روپے سے زائد رقم جاری بھی کی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید قرضوں کا اجراء کیا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ اگلے چار سال کے دوران پانچ لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے لیے قرض فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ہر مستحق فرد کو ایک کروڑ روپے تک قرض دیا جا سکے گا۔ تمام قرضوں پر شرح سود یکساں 5 فیصد رہے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اسکیم سے تعمیراتی شعبے کو بھی فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
اسی اجلاس میں ایک اور اہم منصوبے کی بھی منظوری دی گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تھر کول ریلوے کنیکٹیویٹی منصوبے کے لیے اربوں روپے کی منظوری دی۔ اس منصوبے کے ذریعے تھر کے کوئلے کو پاور پلانٹس تک پہنچایا جائے گا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










