مہنگائی کا نیا طوفان؟ گورنر اسٹیٹ بینک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجادی

New Wave of Inflation? State Bank Governor Rings Alarm Over Petroleum Prices
State Bank of Pakistan کے گورنر نے معیشت سے متعلق اہم اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اگلے مالی سال میں بھی افراطِ زر اسی حد میں رہ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی پالیسیوں کے باعث قیمتوں میں استحکام آ رہا ہے، تاہم بیرونی حالات اب بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
گورنر نے خبردار کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر خام تیل 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتا ہے تو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ایک فیصد تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود خسارہ قابو میں رکھا جائے گا۔ زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ جون تک 18 ارب ڈالر اور دسمبر 2026 تک 20 ارب ڈالر ہو جائیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ حالیہ اضافہ قرض لے کر نہیں کیا گیا۔ گزشتہ تین برسوں میں 24 ارب ڈالر کی مارکیٹ سے خریداری کے ذریعے ذخائر کو مضبوط کیا گیا ہے۔ بیرونی قرضوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مجموعی بیرونی قرضہ 103 ارب ڈالر ہے، جبکہ ملک کا کل قرضہ 138 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں سے بیرونی قرض میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے رول اوور اب ماہانہ بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ سالانہ بنیادوں پر ہوتا تھا۔ تاہم دیگر شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ گورنر کے مطابق رواں سال معاشی شرح نمو 4.7 سے 5.7 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








