حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 10 ہزار روپے حاصل کرنے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

Easy Method to Receive the Announced 10,000 Rupees by the Government Revealed
پنجاب حکومت نے رمضان المبارک کے دوران مستحق خاندانوں کی مدد کے لیے مالی امداد کا عمل تیز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں غریب اور کم آمدن والے گھرانوں کو 10 ہزار روپے فی خاندان فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے دور میں ضرورت مند افراد کو ریلیف دینا ہے تاکہ وہ رمضان میں بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
حکام کے مطابق اس بار امدادی رقم حاصل کرنے کے لیے راشن کارڈ کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بتایا کہ اہل افراد کے اکاؤنٹس میں امدادی رقم منتقل کی جا چکی ہے۔ جن شہریوں کو بینک آف پنجاب یا متعلقہ ادارے کی طرف سے پیغام موصول ہوا ہے وہ آسانی سے اپنی رقم وصول کر سکتے ہیں۔
رقم حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو اپنا اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ساتھ لے کر جانا ہوگا۔ اس کے بعد وہ قریبی مجاز ایجنٹ کے پاس جا کر تصدیقی عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ شہری HBL Konnect، UBL Omni یا Alfa Pay کے قریبی ایجنٹ سے رابطہ کریں۔ وہاں موجود نمائندہ سب سے پہلے شہری کا شناختی کارڈ چیک کرے گا۔
اس کے بعد شہری سے وہ موبائل نمبر پوچھا جائے گا جو اس اسکیم میں رجسٹرڈ ہے۔ اسی نمبر پر بینک کی جانب سے بھیجا گیا 6 ہندسوں کا تصدیقی کوڈ ایجنٹ کو دکھانا ہوگا۔ اس عمل کے بعد بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی۔ انگوٹھے کی تصدیق مکمل ہوتے ہی شہری کو 10 ہزار روپے کی رقم ادا کر دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی موبائل فون پر ایک تصدیقی پیغام بھی موصول ہوگا جس سے ادائیگی کی تصدیق ہو جائے گی۔
حکومت نے شہریوں کو احتیاطی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شہری اپنا پن کوڈ یا خفیہ معلومات کسی نامعلوم شخص کو نہ بتائے۔ اگر کوئی شخص اس حوالے سے مشکوک سرگرمی کرے تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق اس پروگرام کا مقصد مستحق افراد تک امداد کو شفاف اور آسان طریقے سے پہنچانا ہے تاکہ کسی قسم کی بدعنوانی یا دھوکہ دہی سے بچا جا سکے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











