پیر، 9-مارچ،2026
پیر 1447/09/20هـ (09-03-2026م)

اسٹیٹ بینک کا شرح سود ساڑھے دس فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

09 مارچ, 2026 15:37

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود کو دس اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے معاشی حلقوں میں جاری بے یقینی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی تازہ ترین مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق ملک میں بنیادی شرح سود کو بغیر کسی تبدیلی کے دس اعشاریہ پانچ فیصد پر برقرار رکھنے کا اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔

کراچی میں واقع مرکزی بینک کے ہیڈ کوارٹر سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے ملکی معاشی صورتحال، افراط زر کے تناسب اور عالمی مالیاتی رجحانات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں شرح سود کو اسی سطح پر رکھنا معیشت کے وسیع تر مفاد میں ہے۔

ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو ساڑھے دس فیصد پر برقرار رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی کے دباؤ کو کنٹرول کرنے اور اقتصادی ترقی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی مندی، مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار

اس فیصلے سے قبل مالیاتی مارکیٹ میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ آیا شرح سود میں کمی کی جائے گی یا اسے مزید بڑھایا جائے گا، تاہم اسٹیٹ بینک نے استحکام کی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔

مرکزی بینک کا ماننا ہے کہ شرح سود کو موجودہ سطح پر رکھنے سے روپے کی قدر کو سہارا ملے گا اور سرمایہ کاروں کو اپنی طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہوگی۔

اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کا مقصد ملک میں قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔ بینکنگ اور کاروباری حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو ملے جلے ردعمل کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، تاہم زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر بدلتی ہوئی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ ایک محتاط اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ وہ معاشی اشاریوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور مستقبل میں کسی بھی تبدیلی کا فیصلہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔