اشیاء خورونوش اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

Big Shock for People Planning to Build Their Own Homes; Very Bad News Emerges
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد مختلف شہروں میں روزمرہ استعمال کی اشیاء اور تعمیراتی سامان مہنگا ہونا شروع ہو گیا ہے۔
ملتان میں دودھ کی قیمت میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد دودھ 220 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح دہی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے اور اب یہ تقریباً 250 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی بڑا فرق دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری نرخنامے کے مطابق انار 600 روپے، اسٹرابری 300 روپے اور امرود 135 روپے فی کلو مقرر ہیں۔ تاہم مارکیٹ میں انار 700 روپے، اسٹرابری 600 روپے اور امرود تقریباً 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔
اسی طرح سیب کی سرکاری قیمت 230 سے 392 روپے فی کلو اور کیلے 210 روپے فی درجن مقرر ہیں۔ لیکن بازار میں سیب 250 سے 450 روپے فی کلو جبکہ کیلے تقریباً 250 روپے فی درجن تک فروخت ہو رہے ہیں۔
دیسی لیموں کی قیمت میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری نرخنامے میں اس کی قیمت 204 روپے فی کلو درج ہے۔ مگر عام مارکیٹ میں یہ لیموں 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ان کے گھریلو بجٹ کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ جبکہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جس کا اثر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب تعمیراتی سامان بھی مہنگائی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ سریا کی قیمت میں 30 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بجری 10 روپے فی فٹ مہنگی ہو گئی ہے۔ ٹی آر کی قیمت میں بھی 40 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 210 سے 250 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ گاڈر کی قیمت میں بھی 50 روپے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اب یہ تقریباً 260 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












