ایرانی حملوں کے خدشے پر سعودی تجارت بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کی طرف منتقل

ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال کے باعث سعودی عرب نے اپنی سمندری تجارت کا بڑا حصہ بحیرہ احمر کی مغربی بندرگاہوں کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سعودی عرب نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنی سمندری تجارت کا رخ تبدیل کرتے ہوئے اسے ملک کی مغربی بندرگاہوں کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق خلیج فارس کے ساحل پر واقع سعودی عرب کی مشرقی بندرگاہوں تک پہنچنے والے جہازوں کو عام حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرنا پڑتا ہے، تاہم ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد یہ اہم آبی گزرگاہ عملاً بند ہو چکی ہے اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔
اسی صورتحال کے باعث سعودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ زیادہ تر تجارتی سامان کو بحیرہ احمر کی بندرگاہوں کے ذریعے ملک میں داخل کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : حملے جاری رہے تو سنگین نتائج ہوں گے، سعودی عرب نے ایران کو خبردار کردیا
اس اقدام کے تحت تجارتی سامان اور کنٹینرز کو خلیجی بندرگاہوں کے بجائے مغربی ساحلی بندرگاہوں تک منتقل کیا جائے گا، جہاں سے انہیں ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جائے گا۔
سعودی عرب کے وزیر برائے نقل و حمل اور رسد صالح الجاسر نے بحیرہ احمر کی ایک بندرگاہ کے دورے کے دوران کہا کہ ملک کا نقل و حمل اور لاجسٹکس کا نظام مکمل طور پر فعال ہے اور بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور نقل و حمل کے نیٹ ورک کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ سپلائی چین کو مستحکم رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی تجارت اور ملکی ضروریات متاثر نہ ہوں اور سامان کی ترسیل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت بندرگاہی انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ جنگی حالات کے باوجود اقتصادی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











