پیٹرول کی قیمت میں تاریخی اضافے کا امکان

A new wave of inflation is brewing!!! OGRA announces major decision on petroleum products
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ اور دیگر اقسام کے خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث تیل درآمد کرنے والے ممالک شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان میں بھی اس بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔ اگر یہ اضافہ نافذ ہو گیا تو عام صارفین کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید ناقابلِ برداشت ہو جائیں گی اور ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
اوگرا اپنی ورکنگ آئندہ دو دن میں مکمل کر کے پیٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گی۔ اس کے بعد حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے۔ امکان ہے کہ حکومت اضافے کو فوری نافذ کرنے کے بجائے دو مراحل میں کرے تاکہ عوام پر یکدم بوجھ نہ پڑے۔
اسی کے ساتھ زیر غور ہے کہ حکومت محدود سبسڈی دے کر قیمتوں کو عارضی طور پر موجودہ سطح پر برقرار رکھ سکتی ہے، تاہم مالی مشکلات کے سبب یہ آپشن مشکل تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سبسڈی دینے سے مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے، اور عالمی مالیاتی دباؤ بھی فیصلے پر اثر ڈال سکتا ہے۔
واضح رہے کہ 7 مارچ کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 321.17 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ اس اضافے نے پہلے ہی مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی اوگرا نے قیمتوں میں اضافے کی سمری حکومت کو بھیجی تھی، لیکن عوامی ردعمل کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھی گئیں۔ البتہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 70.73 روپے فی لیٹر اضافہ اور ہائی اوکٹین پر 200 روپے فی لیٹر لیوی نافذ کی گئی، جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












