جمعرات، 26-مارچ،2026
جمعرات 1447/10/07هـ (26-03-2026م)

ایران کا آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے بدلے عالمی تجارتی جہازوں سے ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ

26 مارچ, 2026 11:19

ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور ٹینکرز سے ٹیکس وصول کرنے کے لیے قانون سازی شروع کر دی ہے، جس کا مقصد سمندری راستے کی سیکیورٹی کے اخراجات پورے کرنا بتایا گیا ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم کے مطابق، ایران کی پارلیمنٹ ایک ایسا نیا قانون منظور کرنے کی تیاری کر رہی ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر تجارتی بحری جہاز سے راہداری فیس یا ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کی سول افیئرز کمیٹی کے چیئرمین نے تصدیق کی ہے کہ اس قانون کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور اسے قانونی ماہرین کی ٹیم جلد حتمی شکل دے دے گی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بھاری اخراجات برداشت کر رہا ہے، اس لیے یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ اس راستے کو استعمال کرنے والے جہاز ان سہولیات کے بدلے فیس ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے اردن، بحرین، کویت میں امریکی اڈوں پر حملے، امریکی ایف اٹھارہ لڑاکا طیارہ گرانے کا دعویٰ

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ جس طرح زمین پر موجود تجارتی راہداریوں سے گزرنے والی اشیاء پر ڈیوٹی ادا کی جاتی ہے، اسی طرح آبنائے ہرمز بھی ایک عالمی راہداری ہے اور یہاں سے گزرنے والے تیل بردار ٹینکرز اور مال بردار جہازوں کو ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پانچ بنیادی شرائط پیش کر رکھی ہیں۔ ان شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ ہے کہ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار اور حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔

اس قانون سازی کے ذریعے ایران اس اہم سمندری راستے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے، جہاں سے دنیا کی پیٹرولیم مصنوعات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

اس اقدام سے عالمی تجارتی منڈیوں میں مزید ہلچل پیدا ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر بحری آمد و رفت کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ایران کو ایک مضبوط سفارتی اور معاشی کارڈ مل جائے گا۔

Catch all the دنیا News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔